خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 492

خطبات طاہر جلدا آپ کو بھی اس لطف میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ 492 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء یہ وہ مقام ہے جس کا دعوت الی اللہ سے تعلق ہے۔ جس کو جتنا نصیب ہوا تنا ہی وہ دعوت الی اللہ کرنے کا اہل ہوتا چلا جائے گا اور اس کی دعوت الی اللہ میں اتنی ہی غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ دعوت الی اللہ کا مطلب ہے دو قوسوں کا ملانا۔ بنی نوع انسان کو خدا سے متصل کرنا اور دنا فَتَدَلی کا یہی مضمون ہے جس شخص نے خدا کے وصل کا کوئی حصہ نہ پایا ہو وہ کسی دوسرے کو مند منطقی طور پر خواہ چیخ چیخ کر بلائے اور دلائل سے کیسا ہی اس پر غالب کیوں نہ آجائے اس کو اللہ سے نہیں ملا سکتا۔ اللہ سے ملانے کے لئے اس کے وجود کا کچھ نہ کچھ حصہ لازم ہے خدا سے خود ملا ہو اور اگر سارا نہیں تو کچھ نہ کچھ تو وہ اس کو خدا ۔ کو خدا سے ملا سکے۔ جو میں نے چنا ہے اس کا آخری حصہ یہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دو ۔۔۔ اور چونکہ خدا سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں اعلیٰ مقام قرب تک پہنچنا ایک ایسا امر ہے جو کسی غیر کو اُس پر اطلاع نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے خدا الله تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ایسے افعال ظاہر کئے جن سے ثابت ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نے در حقیقت تمام چیزوں پر خدا کو اختیار کر لیا تھا اور آپ کے ذرہ ذرہ اور رگ اور ریشہ میں خدا کی محبت اور خدا کی عظمت ایسے رچی ہوئی تھی صلى الله ہوتا ہے کہ کہ گویا آپ کا وجود خدا کی تجلیات کے پورے مشاہدہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح تھا۔ خدا کی محبت کاملہ کے آثار جس قدر عقل سوچ سکتی ہے وہ تمام آنحضرت میں موجود تھے ۔ (عصمت انبیاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۵۹ - ۶۶۶) صلى الله فرمایا اللہ کا تعلق تو دنیا کو دیکھنے میں دکھائی نہیں دیتا سوائے اس کے کہ خدا کی صفات بندے صلى الله میں جاری ہوں ۔ پس محمدﷺ میں صفات الہی جلوہ گر ہوئیں تب ہم نے دیکھا کہ آپ کا خدا سے تعلق تھا۔ پس ہر وہ احمدی جو کسی دوسرے کو خدا کی طرف بلاتا ہے کچھ تو صفات پیش کر سکے، کچھ تو اپنی ذات میں دکھا سکے کہ دیکھو جب خدا سے تعلق ہوتا ہے تو یہ انسان بن جایا کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود صلى الله علیہ الصلوٰۃ والسلام ، حضرت رس حضرت رسول اللہ ﷺ کے عشق میں ڈوب کر اپنے ان دو اشعار میں جو با ار میں جو میں آپ