خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 491
خطبات طاہر جلدا 491 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:٤) کہ اے محمد ! تو بنی نوع انسان کے لئے اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا کہ یہ ایمان نہیں لا رہے۔کتنی بڑی ہمدردی ہے جو حضور اکرم ﷺ کی ذات میں ایسی چمکی تھی اور اس شان سے جلوہ گر ہوئی تھی کہ کبھی دنیا کے کسی دل میں یہ ہمدردی اس شان کے ساتھ نہ چپکی نہ جلوہ گر ہوئی نہ ایسی وسعت پذیر ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو کل عالم کا نبی بنایا گیا اور کل عالم کا شفیع مقرر فرمایا گیا۔اگر آپ کی ہمدردی مشرق کے لئے خاص ہوتی تو خدا گواہ ہے کہ کبھی آپ کو مغرب کا رسول نہ بنایا جاتا اور اگر آپ کی ہمدردی مغرب کے لئے خاص ہوتی تو خدا کی قسم ہے وہ کبھی مشرق کا رسول نہ بنایا جاتا۔پس آپ کو مشرق اور مغرب کا رسول بنانا اور کل عالم کے لئے شفیع بنادینا آپ کے قلب مطہر اور اس کی لامتناہی صفات و ہبت کی طرف اشارہ کرتا ہے تبھی آپ کو رحمت للعالمین کا لقب عطا فرمایا گیا۔تو وہ کیفیت کہ تو اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا یہ وہی ہے کہ اس پر غشی طاری ہو رہی ہے، اس کا دل ٹوٹ رہا ہے، اس کے بدن کے ٹکرے ٹکڑے ہورہے ہیں۔اتنی گہری ہمدردی بنی نوع انسان سے اس کو ہو جاتی ہے اور اس کی ہمدردی نے اس کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غم خوار سے بڑھ کر ہے۔" پس جبکہ یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک طرف سے لاہوت کے مقام سے جفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جفت تب دونوں پلہ میزان کے اس میں مساوی ہوں گے یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہوگا اور مظہر ناسوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں حالتوں میں واقع ہوگا۔اس طرح پر اسی مقام شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر۔آنحضرت ﷺ کے شفیع ہونے کی شان میں فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنى۔۔۔یہ وہی مضمون ہے جو میں پہلے بیان کرتا آیا ہوں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مضمون کے وہ لطیف اور باریک پہلو جو ایک صاحب تجر بہ عارف باللہ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہو سکتے وہ میں اب آپ کے ساتھ Share کر رہا ہوں یعنی جس طرح میں نے ان سے لطف اٹھایا 66