خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 493

خطبات طاہر جلدا 493 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء کے سامنے رکھتا ہوں، بتاتے ہیں کہ آپ نے کیسے خدا کو پایا اور کیوں آپ اس مقام پر فائز ہوئے کہ ہمیں بلا سکیں اور کیوں آپ ہی اس بات کے مستحق تھے جو اندر سے آیا ہو وہی اندر کی راہ دکھا سکتا ہے۔جو محرم راز ہو وہی بتا سکتا ہے کہ محبوب کا قرب حاصل کرنے کے کیا راز ہیں۔کس طرح انسان اپنے محبوب کو پاتا ہے۔فرماتے ہیں۔آنکھ اس کی دور میں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے (درین صفحہ ۸۳) نظر قیامت کے آخری کناروں تک پہنچی ہوئی ہے، تمام بنی نوع انسان تک پہنچی ہوئی ہے لیکن دل یار سے قریں ہے ، ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے۔یہ وہ کامل وجود ہے جو ہاتھوں میں شمع دیں لئے ہوئے تمام دنیا کو اس نور کی طرف بلا رہا ہے۔پر دے جو تھے ہٹائے اندر کی راہ دکھائے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے (درین صفحہ: ۸۳) سب پردے اٹھا دیئے ، اندر کی راہ دکھا دی۔یار سے دل ملانے والا یہی آشنا ہے یعنی پہلے خود آشنا ہو پھر یار کی طرف بلائے تو وہ اس لائق ہوگا کہ یار سے ملائے۔اس کے بغیر تو یار سے نہیں ملایا جا سکتا۔جو آشنا ہی نہیں ہے اس نے کہاں کسی کو یار سے ملانا ہے۔پس آشنا بنو تو تم کامیاب داعی الی اللہ بن جاؤ گے۔اگر آشنا نہیں تو کچھ بھی نہیں محض دنیا کی ایک کوشش اور محنت اور دکھاوا ہے اس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔