خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 483
خطبات طاہر جلدا 483 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء علیہ الصلوۃ والسلام وراثت کے مضمون کے طور پر بیان فرمارہے ہیں۔اس کے برعکس جو عیسائی نظریہ ہے وہ گندگی کا وراثت میں جاری ہونا ہے اور گناہ کا وراثت میں جاری ہونا ہے۔دیکھیں پاک سرچشمے سے کیسے پاک خیالات پھوٹتے ہیں اور جو چشمہ گندا ہو چکا ہو جس کا اپنی نبوت سے تعلق منقطع ہو چکا ہووہ اس پاک پانی کو کیسے گلہ کر دیتا ہے۔قرآن کریم نے اسی کی گواہی دی ہے کہ ہر بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے اور ہر بچہ نیکی اور اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔یہ وہ گواہی ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس رنگ میں بیان فرما ر ہے ہیں کہ نیکی موروثی ہے۔بدی موروثی نہیں ہے۔بدی بعد کے اثرات سے پیدا ہوتی ہے لیکن فطرت میں جو چیز داخل فرما دی گئی ہے جس سے انسان کا خمیر اٹھایا گیا ہے وہ نیکی ہی ہے تو فرمایا کہ وو۔۔۔اس کی راستبازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہر ایک جانور کا بچہ اس کی صفات اور افعال میں سے حصہ لیتا ہے اور دراصل شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ فطرتی وارث اپنے مورث سے حصہ لے کیونکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ شفاعت کا لفظ شفع کے لفظ سے نکلا ہے جو زوج کو کہتے ہیں پس جو شخص فطرتی طور پر ایک دوسرے شخص کا زوج ٹھہر جائے گا ضرور اُس کی صفات میں سے حصہ لے گا۔اسی اصول پر تمام سلسلہ خلقتی توارث کا جاری ہے۔یعنی انسان کا بچہ انسانی قومی میں سے حصہ لیتا ہے اور گھوڑے کا بچہ گھوڑے کے قومی سے حصہ لیتا ہے اور بکری کا بچہ بکری کے قومی میں سے حصہ لیتا ہے اور اسی وراثت کا نام دوسرے لفظوں میں شفاعت سے فیض یاب ہونا ہے کیونکہ جبکہ شفاعت کی اصل شفع یعنی زوج ہے۔پس تمام مدار شفاعت سے فیض اٹھانے کا اس بات پر ہے کہ جس شخص کی شفاعت سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اُس سے فطرتی تعلق اس کو حاصل ہوتا جو کچھ اس کی فطرت کو دیا گیا ہے اُس کی فطرت کو بھی وہی ملے۔۔۔یہ مضمون ارتقائی طور پر اب ایک اور منزل میں داخل ہو گیا ہے۔اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا کہ شفاعت کا ایک پہلو ہے جو انسان نے وراثت حاصل