خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد ۱۱ 482 خطبہ جمعہ سے امر جولائی ۱۹۹۲ء کے لئے خاص حالات میں شفیع بنا اور قیامت کے دن بھی شفیع ہوگا لیکن ان دونوں صفات کے لحاظ سے ان کا معراج ہمیں حضرت اقدس ﷺ کی ذات میں دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وو یہی راز ہے جو حکمت الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (الحجر:۳۰) یعنی جب میں آدم کو ٹھیک ٹھیک بنالوں اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو! اسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطرتاً خدا سے تعلق پیدا ہو جائے ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی۔پس اس لئے آدم طبعی طور پر ان کا شفیع ٹھہرے گا کیونکہ باعث نفخ روح جو راستبازی آدم کی فطرت کو دی گئی ہے۔۔۔نفخ روح سے مراد ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہونا ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہونا اور تعلق کا مختلف رنگ میں اظہار ہونا۔اس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آدم کو راستبازی عطا ہوتی ہے کیونکہ جس کا خدا سے تعلق ہو اور جس کو خدا سے تعلق ہو جائے اس کو ضرور راستبازی عطا ہوتی ہے۔یہ آدم کی فطرت کو دی گئی ہے۔" ضرور ہے کہ اُس کی راستبازی کا کچھ حصہ اس شخص کو بھی ملے جو اس میں سے نکلا ہے۔۔۔66 پس انسانی فطرت میں نیکی کی جو سرشت پائی جاتی ہے یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود