خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 484
خطبات طاہر جلدا 484 خطبہ جمعہ کے ار جولائی ۱۹۹۲ء کیا یعنی آدم کو خدا تعالیٰ نے جو اپنی محبت عطا فرمائی اور الہام سے اس کی سرشت کو صیقل فرمایا اور اس کو پاک اور شفاف کیا ، یہ وہبت یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے جو یہ عطا تھی یہ آدم ہی تک نہیں رکی بلکہ اس کی نسلوں میں جاری ہوئی اور یہ وراثہ شفاعت سے حصہ لینا ہے۔اب فرماتے ہیں کہ کسی طور پر بھی شفاعت سے حصہ لینا ضروری ہے۔صرف وراثت تک اس مضمون کو چھوڑ دینا کافی نہیں۔چنانچہ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ وہ اہل اللہ، وہ پاک لوگ جن کو خدا اعلیٰ مراتب عطا فرماتا ہے اور اعلی کمالات بخشتا ہے اُن سے تعلق خود بخود جوڑ کر انسان کے لئے لازم ہے کہ ان کا روحانی وارث بنے اور محض اس خوابیدہ سی وراثت پر اکتفا نہ کرے جو خون سے نسلاً بعد نسل اس کے اندر منتقل ہوتی چلی آرہی ہے کیونکہ وہ وراثت دب جاتی ہے، دیگر عوامل اور دیگر ایسے بہت سے اسباب ہیں جن کے نیچے دب کر وہ مغلوب ہو جاتی ہے۔پس دیکھیں کہ ہر انسان جو فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور ہر بچہ جو سلیم فطرت اور نیکیاں لے کر آتا ہے ان کی کتنی بھاری اکثریت ہے جو خوفناک بدیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ان کے مزاج بگڑ جاتے ہیں، ان کے دل کی کیفیتیں گندی ہو جاتی ہیں ، وہ پانی جو آسمان سے صاف اور شفاف نازل ہوا تھا وہ ایسا زہریلا ہو جاتا ہے کہ ان کے اردگردان کے ماحول میں بھی ان کی پھونکوں سے لوگ مرتے ہیں۔تو یہ جو غیر معمولی طور پر انقلابی کیفیت جو کا یا پلٹنے والی کیفیت پیدا ہوتی ہے یہ بتاتی ہے کہ محض موروثی نیکی کافی نہیں اگر اس کے ساتھ وہی نیکی شامل نہ ہو اور وراثت کا مضمون اس کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ اُن لوگوں سے تعلق قائم کرو جن پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی ہو جن کی روح کو خدا تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھ سے چم کا یا ہو اور ان سے روحانی ورثہ حاصل کرو۔یہ مضمون جب حضرت اقدس محمدﷺ کے تعلق میں سوچا اور سمجھا جائے تو شفاعت کا اصل اور اعلیٰ مفہوم انسان پر روشن ہو جاتا ہے۔شفاعت کا معنی یہ نہیں ہے کہ محض مرنے کے بعد گنہگاروں کے متعلق رسول اللہ ہے فرما دیں کہ اے خدا ان کو معاف کر دے اور چھٹی کر۔ان کی بخشش کے انتظام اس دنیا میں کرتے رہے اور کر گئے ہیں اور وراثت وہ فیض پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔فرمایا اس فیض سے حصہ پاؤ وہ دولت جو بے حساب ہے اس کا کوئی شمار ممکن نہیں وہ حضرت اقدس محمد ﷺ کے فیضان کی دولت ہے جو ایک بہتا ہوا ابدی طور پر بہنے والا اور نہ ختم ہونے والا دریا ہے۔