خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 481
خطبات طاہر جلد ۱۱ 481 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء میں بھی شہادتیں عطا کرتے ہیں اگر غور کرو تو تمہیں وہاں سے بھی شہادتیں مل سکتی ہیں اور آفاق میں بھی شہادتیں ہیں۔اگر عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے بیرونی نظر سے بھی دیکھو تو تمہیں ہر جگہ حق کی شہادت مل جائے گی۔فرماتے ہیں۔"۔۔۔اب شفاعت کی فلاسفی یوں سمجھنی چاہئے کہ شفع لغت میں جفت کو کہتے ہیں۔۔۔66 یعنی جوڑے کو ، دو ہونے کو ، دو کے اکٹھا ہونے کو قرآن کریم میں وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (الفجر ۴) آتا ہے کہ جفت کی دو گواہی ہے اور اکیلے کی کل گواہی ہے تو فرمایا کہ وو شفع لغت میں جفت کو کہتے ہیں۔پس شفاعت کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ضروری امر جو شفیع کی صفات میں سے ہوتا ہے یہ 66 ہے کہ اس کو دوطرفہ اتحاد حاصل ہو۔۔۔اب شفیع جو شفاعت کا موجب بنتا ہے اور وسیلہ بنتا ہے اس میں کیا صفات ہونی چاہئیں فرماتے ہیں جو مضمون ہم بیان کر چکے ہیں اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ایک شفیع میں دو قسم کے تعلق ہونے ضروری ہیں۔۔۔۔یعنی ایک طرف اُس کے نفس کو خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہوایسا کہ گویا وہ کمال اتحاد کے سبب حضرت احدیت کے لئے بطور جفت اور پیوند کے ہو۔" یعنی اتنا گہراتعلق خدا تعالیٰ سے ہو جیسے ایک قلم دوسرے درخت پر لگ جاتی ہے اور اتنا گہرا واسطہ ہو کہ گویا ایک ہی وجود بن گئے ہیں۔۔۔۔اور دوسری طرف اس کو مخلوق سے بھی شدید تعلق ہو گویا وہ ان کے اعضا کی ایک جز ہو۔پس شفاعت کا اثر مترتب ہونے کے لئے در حقیقت یہی دو جز ہیں جن پر ترتب اثر موقوف ہے۔۔۔۔فرمایا یہ دونوں صفات جس حد تک کسی انسان میں پائی جائیں گی اسی حد تک اس کی شفاعت کا مضمون مترتب ہوگا۔پس اس پہلو سے مختلف درجے ہیں، مختلف انبیاء ہیں، ہر نبی اپنی قوم