خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 465
خطبات طاہر جلدا 465 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء ہوا کرتا تھا مگر خدا کی راہ میں بڑی قربانی کرنے والے تھے۔آج ان کی اولادوں میں بعض لوگوں پر نظر ڈال کر میں بتاتا ہوں کہ وہ ایسے ہیں کہ جتنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جتنی قربانی ہوئی تھی ان میں سے ہر ایک اس سے زیادہ کر رہا ہے یعنی بعض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ساری جماعت کو جو تمام مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملتی تھی آج ان بزرگوں کی اولادوں میں سے بعض ایسے صاحب دولت اور صاحب ثروت اور صاحب غنا لوگ ہیں جن کا دل غنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس زمانے کی ساری مالی قربانی کے برابر بلکہ اس سے بڑھ کر ا کیلے پیش کر رہے ہیں لیکن سب کچھ بھی پیش کر دیں تب بھی اس مرتبے کو حاصل نہیں کر سکتے جو اس زمانے میں قربانی کرنے والے کا مرتبہ تھا۔اس پر اللہ کی رضا کی جو نظریں پڑتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رضا کی جو نظریں پڑتی تھیں ان کی کیفیت بیان کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ غرباء جنہوں نے اس زمانے میں دو پیسے بھی پیش کیے وہ ایسے تھے جنہوں نے آئندہ زمانوں میں اپنی اولاد کے مقدر جگا دیئے ، ان کی اولاد میں دو کروڑ خرچ کرنے والے بھی پیدا ہوں گے تب بھی وہ اُن دو پیسوں کے مرتبے کو نہیں پاسکیں گے۔تو یہ خدا کی قبولیت کا سلسلہ ہے۔وہ دانہ جس کو پھل لگا تھا اس کا اپنا ایک مقام ہے اس پر آپ نظر رکھا کریں۔جس دانے نے سات سودانے پیدا کئے اور سات سو کو خدا نے پھر بڑھا کر بیشمار کر دیا۔وہ اصل دانہ اُن سب نعمتوں کا باپ ہے، بے شمار ان سب نعمتوں کی ماں ہے ، سب کچھ وہ ہی ہے۔کثرت کے ساتھ پیدا ہونے والے وہ دانے اپنے اس دانے کا تو مقابلہ نہیں کر سکتے جس کا فیض پا کر بڑھے اور پھولے اور پھلے۔اس لئے وہ مالی قربانی کرنے والے جو آج ان اعدادوشمار کو سنیں گے اور جب ان کا دل حمد سے بھرے گا وہ ان بزرگوں کو دعاؤں میں یا درکھیں جن کی قربانیوں نے یہ پھل لگائے۔ان کے اموال میں بھی برکت پڑی اور ان کی قربانیوں میں بھی برکت پڑی اور جماعت احمدیہ کے اموال میں بحیثیت مجموعی ایسی برکت پڑی ہے کہ آدمی حیران اور ششدر رہ جاتا ہے کہ سوسال کے عرصہ میں اتنی عظیم قربانی کرنے والی جماعت کیسے پیدا ہوگئی۔اب اس تمہید کے بعد میں آپ کے سامنے اعداد و شمار کی صورت میں حتی المقدور اختصار کے ساتھ جماعت احمدیہ کی گزشتہ سال کی مالی قربانی کا نقشہ رکھتا ہوں۔لازمی چندہ جات جن میں