خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 466

خطبات طاہر جلدا 466 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء چندہ عام، چندہ وصیت اور جلسہ سالانہ شامل ہیں ان میں گزشتہ سال خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے 5190888 پاؤنڈ پیش کئے ہیں جو 246192380 روپے کی رقم بنتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانے میں چند ہزار کی باتیں ہوا کرتی تھیں اور سارے سال میں بھی اعداد و شمار ہزاروں سے نہیں بڑھا کرتے تھے لیکن اب خدا کے فضل سے لازمی چندہ جات کی تعداد بھی 246192 ہو چکی ہے جبکہ دیگر بڑی تحریکات تحریک جدید، وقف جدید وغیرہ جو جاری ہیں۔ان میں اس کے علاوہ 1960000 پاؤنڈ کی مالی قربانی جماعت کو ایک سال میں پیش کرنے کی توفیق مل رہی ہے جس کی رقم 2888851 پاکستانی روپے بنتی ہے اس کے علاوہ متفرق تحریکات ہیں جو میں نے مختلف وقتوں میں کی ہیں اور کچھ صدقات وزکوۃ وغیرہ کی رقمیں ہیں۔کچھ عید فنڈ اور فطرانہ وغیرہ کی رقمیں ہیں۔ان سب کو ملالیں تو ان کے علاوہ یہ 135742 پاؤنڈ بنتے ہیں جن کی رقم ( پاکستانی کرنسی میں )643098 روپے ہے۔آج سے قریباً ۴۰ سال پہلے ۱۹۵۳ ء میں آپ جائیں جبکہ فساد ہوئے ہیں تو جماعت کا سالانہ بجٹ 25 لاکھ کے قریب ہوا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زمانے کے لحاظ سے آگے آکر ۵۳ء میں پہنچیں تو اس وقت جماعت کی مالی قربانی کو دیکھ کر عبدالرحیم اشرف جو ایک معاند مولوی تھے اپنے اخبار میں جس کو وہ فیصل آباد سے شائع کیا کرتے تھے بہت درد کے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ جس جماعت کو مٹانے کے لئے ہم نے تحریکات پر تحریکات چلائیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگا یا ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور مالی قربانی کے لحاظ سے آپ لوگ یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ یہ 25 لاکھ روپے سالانہ قربانی پیش کر رہے ہیں۔کہاں وہ ۵۳ ء کا وقت جبکہ دشمن 25 لاکھ سے ششدر اور حیران رہ گیا تھا اور وہ سمجھا کہ ہم شکست کھا گئے ہیں اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ اگر ان سب چندوں کو ملا لیا جائے تو خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی ایک سال کی مالی قربانی ، جو میں نے حساب لگایا تھا 44 کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالی تو اس کے بعد کسی خطبہ میں میں نے جماعت کےسامنے یہ اظہار کیا تھا کہ میں نے جہاں تک جماعت کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ہر ابتلاء کے بعد اعداد و شمار کی کیفیت بدل گئی ہے۔اگر ہزاروں میں چندے ہوتے تھے تو جماعت کے