خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 464
خطبات طاہر جلد ۱۱ 464 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء عطا کر دیتی ہے اور وہ جو مضمون ہے وہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللہ اللہ کی مرضیاں حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے رہتے ہیں۔خرچ کے محل مختلف ہوتے ہیں، مواقع مختلف ہوتے ہیں لیکن مقصود ایک ہی رہتا ہے۔دوسرا ہے۔وَتَثْبِيْنَا مِنْ أَنْفُسِهِمْ اپنے نفس سنبھالنے اور مضبوط کرنے کے لئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر چندے دیتے ہیں ان کے پیش نظر یہ بات بھی ہوتی ہے کہ ہماری مالی قربانیوں کے نتیجہ میں ہمیں ثبات قدم نصیب ہو۔ہم مستقل خدا کے ہوئے رہیں، غیر ہمیں خدا سے چھین کر نہ لے جاسکے اور یہ دونوں مقاصد ہیں جو بڑی شان کے ساتھ پورے ہوتے ہیں اور جب آپ رَ بُوَةٍ والی مثال میں پہنچتے ہیں تو وہاں آپ کو اللہ کی رضا کا مضمون دکھائی دینے لگتا ہے اور ثبات قدم کا مضمون بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔وہ جو کھیتیاں نکلتی ہیں وہ قربانی کی کھیتیاں بھی ہیں اور جزا کی کھیتیاں بھی ہیں اور قرآن کریم نے اسی تعلق میں ایک اور مثال دی ہے کہ جو خدا کی خاطر ایک دانہ زمین میں ہوتا ہے۔مثال تو دانہ بونے کی دی ہے مگر مراد اس کی یہی ہے کہ جو خدا کی خاطر مثلاً ایک آنہ خرچ کرتا ہے، خدا کی خاطر ایک دانہ زمین میں ہوتا ہے تو بعض دفعہ وہ سات بالیاں نکالتا ہے اور ہر بالی میں سوسو دانے ہوتے ہیں تو ایک دانے کے سات سو دانے بن جاتے ہیں اور اگران سات سودانوں کی جزا اس دنیا میں نصیب ہو جائے تو آپ اندازہ کریں کہ خدا کی خاطر قربانی کرنے والوں کے اموال میں کتنی برکت پڑ سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی پر اکتفا نہیں ہے جس کو چاہے اس کے علاوہ بھی بہت دیتا ہے اور پھر دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کی مالی قربانی پر نظر کی تو مجموعی طور پر جماعت کا وہ چندہ جو ہمیں حالات سے اندازہ لگانا پڑتا ہے اور نظر آتا ہے آج اس سے سات سو گنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے یعنی یہ کھیتی ایک سو سال میں ۷۰۰ کی حد کو پار کر کے خدا کی لامتناہی عطا کی حد میں داخل ہو چکی ہے اور کوئی نسبت نہیں رہی اور وہ لوگ جو قربانیاں پیش کیا کرتے تھے ان کی اولادیں بھی، اگر آپ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے لے کر آج تک Trace کرتے ہوئے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ، کھوج لگاتے ہوئے تلاش کریں تو ایسے ایسے بزرگوں کی اولادیں ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جن کا بمشکل گزارا