خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 463

خطبات طاہر جلد ۱۱ 463 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ خدا کی رضا کی خاطر انسان خرچ کرتا ہے۔بعض دفعہ ایک غریب کی ہمدردی میں اپنے نفس سے مجبور ہو کر خرچ کر دیتا ہے۔وہ خرچ بھی اچھا ہے لیکن چونکہ اس کے نتیجہ میں جزا نہیں ہے سوائے اس جزا کے جو انسان کے دل کو تسکین کی صورت میں ملتی ہے اس لئے اس کا یہاں ذکر نہیں فرمایا لیکن باطل مقاصد میں بھی اس کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔تو سوال یہ ہے یہ دو کیوں چنے گئے؟ وہ اصل خرچ جو خدا کی رضا میں جزاء کا مستحق ہوتا ہے وہ انہی دو مقاصد والا خرچ ہے اس کے سوا کوئی خرچ ایسا نہیں ہے جس کو جزا کے لائق قرار دیا گیا ہو۔۔خرچ کرنا ہے تو اللہ کی رضا چاہو، بندوں کی رضا نہ چاہو، اپنے دل کی رضا نہ چاہو ، اپنے اقرباء کی رضا نہ چاہو، کوئی اور رضا مقصود نہ ہو، مَرْضَاتِ اللہ مقصود ہوں کہ بار بار خدا کی رضا نصیب ہو۔خرچ کرتے وقت انسان مختلف کیفیات کے ساتھ خرچ کرتا ہے اور ان کیفیات میں خدا کی مختلف رضا حاصل ہوتی ہے۔بظاہر ایک ہی خرچ ہے لیکن حقیقت میں خرچ کے ساتھ جو تیں شامل ہو رہی ہوتی ہیں جو جذبات شامل ہو جاتے ہیں وہ خرچ کی نوعیت بدلتے رہتے ہیں۔آپ بھی اپنے چندوں پر غور کر کے دیکھیں کبھی کوئی چندہ خدا کی خاص رضا کی خاطر کسی خاص ادا کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، کبھی کوئی چندہ خدا کی کسی اور رضا کی خاطر کسی اور ادا کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، کبھی اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ بچے بھوکے ہیں، ضرورتمند ہیں، کپڑوں کے محتاج ہیں اور انسان جانتے بوجھتے ہوئے کہ میرے بچوں کو سخت ضرورت درپیش ہے کچھ نہ کچھ خدا کی خاطر نکالتا ہے۔وہ رضا کا ایک اور انداز ہے۔ایک امیر آدمی ہے جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہے وہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے اور بڑے اچھے مواقع ہیں لیکن اپنے سرمایہ کاری کی خواہش کو پورا کرنے کے بجائے وہ اس میں سے ایک ٹکڑا نکال کر خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ایک اور شخص ہے جس کے پاس جتنا روپیہ ہے اس نے کسی ایسے مقصد کے لئے رکھا ہوا ہے کہ آئندہ کسی ضرورت کے وقت کام آئے چنانچہ جب آواز آتی ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو تو اس وقت اس کے دل کی جو کیفیت ہے وہ خدا کی خاص قسم کی رضا کی طالب ہو جاتی ہے۔تو یہ تین بڑی بڑی مثالیں ہیں لیکن اس کی تفصیل کے ساتھ بہت سی قسمیں بیان کی جاسکتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہر خرچ کرنے والا اگر خدا کے تعلق میں خرچ کرتا ہے تو اس کے دل کی ایک خاص کیفیت ہوا کرتی ہے۔وہ کیفیت اس قربانی کو ایک خاص رنگ