خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 462

خطبات طاہر جلدا 462 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء دیا کیونکہ ثبات قدم میں ٹھوکر نہیں ہوتی ، کوئی ابتلاء کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو جس پانی کا ذکر فرمایا یہ ابتدائی حالت کا پانی ہے یعنی درمیانی بارش کا ذکر ہی نہیں فرمایا ایک موسلا دھار بارش کی انتہا ہے اور دوسری انتہاء خشک سالی کی ہے جہاں صرف شبنم گرتی ہے۔ثبات قدم اس کو کہتے ہیں کہ جب مثلاً خدا تعالیٰ کے فضل سے دولت کی ریل پیل اور خدا نے رزق کی موسلا دھار بارش برسائی ہوتب بھی مومن کی نیکیوں پر قدم مضبوط رہتا ہے اور کوئی ابتلا ء اس کے دین کو، اس کے ایمان کو ، اس کے اخلاص کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور جب غربت کی حالت ہو تو غربت کا رزق شبنم کی طرح ہے لیکن اس کے باوجود مومن کے ایمان اور اخلاص کو وہ شبنم بھی تقویت دے جاتی ہے۔نہ غربت کا ابتلا ءاس کو نقصان پہنچا تا ہے۔نہ کثرت اموال کا ابتلاء اس کو نقصان پہنچا تا ہے اور دونوں حالتوں میں وہ کھیتی کونسی ہے جوا گتی ہے۔وہ خدا کی خاطر خرچ کرنے کی کھیتی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے کہ مومن وہ ہیں جو خوشحالی میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی خرچ کرتے ہیں۔تو اس خوبصورت مثال میں جو قرآن کریم کے الفاظ میں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے دراصل تنگی اور ترشی کا خرچ اور دولت کی فروانی کا خرچ سب شامل ہو گئے ہیں۔یہ مومن کو ثبات ہے کہ ہر حالت میں وہ خدا ہی کا رہتا ہے اور خدا ہی کی خاطر اس کی قربانیاں ہوئی ہیں۔اموال اور ثبات کے تعلق میں ایک اور معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں ان کو دنیا کے دوسرے عام ابتلاؤں میں بھی ٹھو کر پڑا نہیں کرتی اور لوگ جو خدا کی خاطر خرچ نہیں کیا کرتے وہ بظاہر کتنے ہی اخلاص کے دعوے کرتے ہوں ان کو جب بھی مشکل وقت پیش آئے ان کے قدم ڈگمگا جایا کرتے ہیں اور وہ پھسل جاتے ہیں۔تو اگر کسی مومن نے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتا ہے کہ وہ ہر حال میں اسے ثابت قدم رکھے تو خدا تعالیٰ نے اس کا نسخہ بیان فرما دیا ہے کہ تم خدا کی خاطر خرچ کرو تو تمہیں ثبات قدم نصیب ہوگا۔پہلے مقصد اور دوسرے میں ایک گہرا تعلق ہے۔دو ہی نیک مقاصد بیان فرمائے گئے۔بندوں کی رضا کا کہیں ذکر نہیں ہے۔اپنے نفس کی نرمی اور قلبی جذبات کے نتیجہ میں خرچ کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ وہ کوئی برا محرک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے باطل محرکات میں اس کا ذکر نہیں فرمایا۔میرا