خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۱۱ 455 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء کر دیں۔پہلے فرما رہے تھے کہ رسول سے سیکھو۔اب یہ رسول کا ذکر کوئی نہیں اور قرآن کریم کا ذکر فرما دیا۔ان تینوں باتوں میں کیا تعلق ہے جیسا کہ میں نے آپ کو سمجھایا ہے اگر آپ گہرائی کے ساتھ غور کریں تو ایک ہی مضمون کے مختلف مراحل ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں اور آنحضور ﷺ کے استغفار کے تعلق کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کثرت سے بیان فرمایا ہے کہ اس گفتگو میں جو مجلس میں ہو رہی تھی آپ نے اپنی جماعت پر یہ حسن ظنی فرمائی اور درست حسن ظنی فرمائی کہ جب میں استغفار کہوں گا تو سب سے پہلے ان کا ذہن حضرت اقدس محمد ہے صلى الله کی طرف منتقل ہوگا اور استغفار میں گوڈی کا جو مضمون ہے وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار ہا پہلے بیان فرما چکے ہیں۔پس استغفار ناپاک خواہشات کی گوڈی کرتا ہے اور اُن کو انسان کے نفس کی زمین سے اکھیڑ کر باہر پھینک دیتا ہے اور بیجوں کی حفاظت کرتا ہے اور ان کے اوپر مٹی ڈالتا ہے یعنی نیک اور پاک نیتوں کی حفاظت کرتا ہے اور نیک اعمال کو قوت دیتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں کہ اس کے دو پہلو ہیں۔ایک طرف کمزوری کے خلاف گناہ کے خلاف انسان کے اندر یہ طاقت ہونا کہ اُس سے اپنے آپ کو کاٹ کر الگ کرے اور دوسری طرف نیکیوں کے لئے مثبت طاقت عطا ہونا۔پس استغفار کے نتیجہ میں دونوں باتیں حاصل ہو رہی ہوتی ہیں۔ایک طرف نا پاک پودے اکھیڑ کر پھینکے جارہے ہیں دوسری طرف پاکیزہ پودوں کے لئے ان کو چوروں اور ڈاکوؤں سے بچا کر لٹیروں سے محفوظ کر کے نشو و نما کے سامان پیدا کئے جا رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر مختلف جگہ مختلف رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔اب میں آپ کو یہ بتا تا ہوں کہ اس تنبل کے بعد جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا پھر بنی نوع انسان کی طرف جھکنا ضروری ہو جاتا ہے لیکن وہ تعلق ایک اور رنگ اختیار کر لیتا ہے۔تو تبتل کے معنی خدا کی مخلوق سے نفرت تو ہر گز نہیں ہیں۔محبت ہے لیکن محبت کو درست کرنا اور صحت مند بنانا اور خدا کے تابع کر دینا۔جب انسان کے تمام جذبات اور اس کی کیفیات اور اس کے خیالات اور اس کی نتیں کلیۂ خدا کے تابع ہو کر خدا کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں تو پھر بنی نوع انسان اور خدا کی مخلوقات کا ایک نیا عرفان اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔وہ خدا کی نظر سے اور خالق کی نظر سے ان