خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 454
خطبات طاہر جلد ۱۱ 454 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء تابع ہوکر قائم رہیں۔خدا سے آزاد رہ کر قائم نہ ہوں۔یہ تل کا مضمون ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ استغفار کے بغیر یہ ممکن نہیں اور وہ مرشد کامل جس کو ہم نے پکڑا ہے وہ تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ استغفار کرنے والا تھا۔بعض نادان جاہل معاندین اسلام آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اتنے استغفار جو کیا کرتے تھے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی گناہ گار تھے۔ان جاہلوں کو پتا نہیں کہ استغفار نہ کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔استغفار کے بغیر گناہ سے نجات ممکن ہی نہیں ہے۔گناہ کے خلاف سب سے طاقتور دفاع استغفار ہے جو شخص ہر وقت استغفار میں مصروف رہتا ہے اس سے گناہ کی اہلیت چھین لی جاتی ہے۔اس کی گناہ کی طاقت مر جاتی ہے کیونکہ استغفار میں ہر وقت خدا کی طرف یہ توجہ ہے کہ اے خدا! مجھے اس بدی سے بھی بچا، اس بدی سے بھی بچا، اپنی امان میں لے ، اپنی حفاظت میں رکھ ،اپنی رضا کی چادر اوڑھا دے اور میرے بنی نوع انسان سے تعلق اسی حد تک قائم رہیں جس حد تک تیری رضا ہے۔اس رضا سے باہر میرا ہر تعلق کاٹا جائے۔جو شخص دن رات یہ دعائیں کرتا ہے نفسیاتی لحاظ سے اس کے لئے گناہ کی گنجائش ہی کوئی نہیں رہتی کیونکہ گناہ سے تعلق کے لئے دل میں ایک خواہش کا پیدا ہونا ضروری ہے۔اس خواہش کی انسان پہلے اپنی سوچوں میں پرورش کرتا ہے اس کو طاقت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ توانا ہو کر دل میں اچھلتی ہے اور عمل میں چھلانگ لگانے کی کوشش کرتی ہے۔تب دماغ اس کے ساتھ شامل ہو کر اس کے لئے تدبیر کرتا ہے، اس کو سمجھاتا ہے، بتا تا ہے کہ اس خواہش کو عمل میں ڈھالنے کے لئے تمہیں یہ یہ طریق اختیار کرنے چاہئیں۔اس طرح گناہ پرورش پاکر ایک ایسے بچے کی طرح وجود میں آجاتا ہے جو ماں کے پیٹ سے اپنی مدت پوری کر کے پیدا ہوتا ہے۔اس طرح جب یہ گناہ کے تابع ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ جو کیفیات ہیں ان کی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت سی منازل ہیں۔بہت سے مرحلے ہیں جن مرحلوں سے خواہشات گزر کر پھر گناہ بنتی ہیں۔استغفار ان کی جڑ پر تبر رکھتا ہے اور یہ وہ گوڈی ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ فرمایا۔بظاہر ایک ایسا مضمون بیان فرمایا جس کا بعد میں بیان کئے جانے والے مضمون استغفار سے تعلق نہیں تھا اور ایک آدمی جو سرسری نظر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کا مطالعہ کرتا ہے وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ ابھی تو گوڈی کی باتیں کر رہے تھے ، ابھی استغفار کی باتیں شروع