خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 446
خطبات طاہر جلدا 446 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۹۲ء خواہشات کے کسی حصے سے ہے اور ہر جگہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اپنے نفس کی صحت کا انتظام کرتے ہوئے اس تعلق کے چھلکے کو الگ کرتا رہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے اگلا قدم سمجھا رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ تبتل اور توکل کے درمیان ایک امتحان کا مقام ہے اور تبتل کا سچا ہونا امتحان کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تشریح کی روشنی میں جب ہم آپ کے اس کلام کا مطالعہ کرتے ہیں کہ تبتل کا اعلیٰ اور پاک اور سچا نمونہ خدا کے انبیاء دکھاتے ہیں تو یہ سو فیصدی درست بات ہے کیونکہ ہر نبی کے تبتل کے ساتھ ایک امتحان لگا ہوتا ہے اور اس کا تبتل بار بار آزمایا جاتا ہے اور ایسے خوفناک طریقوں پر آزمایا جاتا ہے کہ عام انسان کے بس میں نہیں کہ اتنے شدید مخالفانہ حالات کا اس طرح مستحکم ہو کر مقابلہ کر سکے۔ایک درخت پر جس طرح آندھیاں چلتی ہیں اگر وہ زمین میں پیوست اور مستحکم نہ ہو تو جڑوں سے اکھیڑا جاتا ہے۔اسی طرح انبیاء پر خدا کے اقرار کے بعد اور خدا کی توحید کے اعلان کے بعد آندھیاں چلتی ہیں اور وہ اس امتحان میں اسی طرح پورے اترتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا۔إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجده: ۳۱) کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور خدا ہمارا رب ہے وہ معاً آزمائے جاتے ہیں۔ثُمَّ اسْتَقَامُوا۔اس آزمائش پر پھر وہ پورا اترتے ہیں اور استقامت دکھاتے ہیں۔یہ کہنا کہ رب ہمارا ہے اس میں استقامت کا کیا سوال ہے؟ استقامت کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس رب کہنے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کے نزول کے درمیان کچھ واقعات گزر گئے ہیں۔کچھ شدید آزمائشیں آن پڑی ہیں بمخالفتوں کی آندھیاں چلائی گئی ہیں اور ان کے قدم اکھیڑنے کی کوشش کی گئی ہے تب وہ اپنے قدموں میں قائم رہتے ہیں ایک ذرہ بھی اپنے اقرار سے اور اپنے ایمان سے ملتے نہیں۔اس کے نتیجہ میں پھر تو کل کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔تو کل محض ایک فرضی تو کل نہیں رہتا بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ الله کی طرف سے ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔ہر گز کسی خوف کا مقام نہیں کسی غم کا مقام نہیں ، خدا تمہارے