خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد ۱۱ 445 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۹۲ء میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ دنیا کے طعنے برداشت کر سکوں یا اپنے عزیزوں اور اقربا کی مخالفت سہہ سکوں۔پس یہی وہ مضمون ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں کہ۔۔۔جب اُن سے کہا جاوے کہ پھر تم اس کو قبول کیوں نہیں کرتے تو وہ یہی کہیں گے کہ لوگ ہم کو برا کہتے ہیں۔پس یہ خیال کہ لوگ اس کو برا کہتے ہیں یہی ایک رگ ہے جو خدا سے قطع کراتی ہے۔66 یعنی تبتل الٹ ہو جاتا ہے۔خدا سے کٹ کر بنی نوع انسان سے تعلق قائم ہو جاتا ہے۔رخ بالکل پلٹ جاتا ہے۔پس فرمایا۔وو۔۔۔جو خدا سے قطع کراتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں ہو اور اس کی عظمت اور جبروت کی حکومت کے ماتحت انسان ہو پھر اس کو کسی دوسرے کی پرواہ کیا ہو سکتی ہے وہ کیا کہتا ہے کیا نہیں ؟ ابھی اُس کے دل میں لوگوں کی حکومت ہے نہ خدا کی۔جب یہ مشرکانہ خیال دل سے دور ہو جاوے پھر سب کے سب مردے اور کیڑے سے بھی کم تر اور کمزور نظر آتے ہیں۔اگر ساری دنیا مل کر بھی مقابلہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں کہ ایسا شخص حق کو قبول کرنے سے رک جائے۔تبتل تام کا پورانمونہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح دنیا داروں کی مخالفتوں کی باوجود پوری بے کسی اور نا توانی کے پرواہ تک نہیں کرتے۔اُن کی رفتار اور حالات سے سبق لینا چاہئے۔“ قرآن کریم میں انبیاء کے حالات کا مطالعہ کریں بلا استثناء ہر نبی جب وہ خدا کی خاطر ساری قوم سے کاٹا جاتا ہے اور ساری قوم اس کے مخالف اور اس کے مثانے کے در پہ ہو جاتی ہے تو متبتل کا عظیم پاک نمونہ دکھاتا ہے۔پس تبتل تام وہ ہے جس کے ساتھ امتحان بھی شامل ہو۔ایک تبتل وہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے اور تبتل حاصل کرنا بھی بڑا مشکل ہے کہ انسان اپنے نفس کو ہمیشہ ٹولتا رہے اور دیکھتا رہے کہ کہاں کہاں اس کا تعلق ابھی بنی نوع انسان کے کسی حصہ سے یاد نیاوی