خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد ۱۱ 447 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء ساتھ ہے، خدا نے ہمیں تمہاری حفاظت کے لئے بھیجا ہے۔تو تبتل کا مضمون یہ وہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ انبیاء میں اس کو تلاش کرو۔فرماتے ہیں کہ انبیاء اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہئے کہ تبتل تام کیا ہوتا ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔وو ”۔۔۔بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں ایسے لوگ جو برا نہیں کہتے مگر پورے طور پر اظہار بھی نہیں کرتے محض اس وجہ سے کہ لوگ برا کہیں گے کیا اُن کے پیچھے نماز پڑھ لیں ؟ میں کہتا ہوں ہر گز نہیں۔اس لئے کہ ابھی تک اُن کے قبول حق کی راہ میں ایک ٹھوکر کا پتھر ہے اور وہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔۔۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تبتل کے بغیر دنیا پرانحصار کی زندگی کو شرک قراردے رہے ہیں اور شرک کی حقیقی اور آخری تعریف یہی ہے کہ خدا پر کسی اور چیز کا متقدم کیا جائے۔یہ وہ درخت ہے جس کا پھل زہریلا ہے۔یہ وہ درخت ہے جس سے حضرت آدم کو منع فرمایا گیا تھا۔اسی درخت کی طرف اشارہ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس زہر یلے درخت سے اس کا تعلق ٹوٹتا نہیں تو اس کے پیچھے تمہاری نمازیں کیسے صحت مند ہو جائیں گی۔وہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔یا درکھیں یہاں فرقہ مراد نہیں ہے۔نہ کسی مذہب کی طرف اشارہ ہے۔اسی درخت کی بات ہو رہی ہے جسے حضرت آدم کے زمانہ میں حضرت اقدس جل شانہ نے زہریلا اور ناپاک اور ممنوعہ درخت قرار دیا تھا۔اسی درخت کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے فرما چکے ہیں۔فرماتے ہیں یہ ایسا درخت ہے کہ اس کی شاخ کو زہر یلے پھل لگیں گے، کوئی میٹھا پھل نہیں لگ سکتا۔پھر فرمایا۔وو۔۔۔اگر وہ دنیا داروں کو اپنا معبود اور قبلہ نہ سمجھتے۔۔۔‘اس سے ثابت ہوا کہ اشارہ شرک کی طرف ہے اور اللہ تعالیٰ پر غیر اللہ کوترجیح دینے کا ذکر فرمارہے ہیں۔”۔۔۔اگر وہ دنیا داروں کو اپنا معبود اور قبلہ نہ سمجھتے تو ان سارے حجابوں کو چیر کر باہر نکل آتے اور کسی کے لعن طعن کی ذرا بھی پر واہ نہ کرتے