خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد ۱۱ 444 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء کرے بلکہ خدا کو مقدم کرے۔دنیا کی کوئی تحریک اور روک اس کی راہ میں نہ آوے اور اپنی طرف اس کو جذب نہ کر سکے۔میں نے ابھی کہا ہے کہ دنیا میں بہت سی روکیں انسان کے لئے ہیں۔ایک جو رویا بیوی بھی بہت کچھ رہزن ہو سکتی ہے۔خدا نے اس کا نمونہ بھی پیش کیا ہے۔خدا نے صرف ایک نہی کی تعلیم دی تھی اس کا اثر پہلے عورت پر ہوا پھر آدم پر ہوا۔۔۔“ یہ عرفان کا بہت بڑا نکتہ ہے جسے ازدواجی تعلقات میں اور عائلی تعلقات میں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے گھر والوں سے حسن سلوک کرو اور اُن کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو۔خوش اخلاقی سے پیش آؤ تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اصولوں کے سودے کرو اور خدا کے تعلق کواز دواجی تعلق پر قربان کر دو۔پس یہ توازن رکھنا تبت میں بہت زیادہ ضروری ہے اور یہ توازن تبھی ہو سکتا ہے کہ انسان دنیا میں رہے بھی اور دنیا کا نہ ہو کر دنیا میں رہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آدم کی کہانی میں تمہیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ خدا نے جب نہی کا حکم دیا تو اس کا پہلا اثر عورت پر پڑا تھا۔یعنی اس کے انکار کی طرف میلان عورت کے دل میں ہوا اور اس سے متاثر ہو کر پھر آدم سے غلطی ہوئی۔پس تمہارے لئے گھر میں ایک ٹھوکر کا بھی مقام ہے اور اس مقام سے ہمیشہ بچتے رہن یہ بھی تبتل کی تعلیم کے تابع ہے اور ہمیشہ اس کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔پھر فرماتے ہیں۔وو۔۔غرض تبتل کیا ہے؟ خدا کی طرف انقطاع کر کے دوسروں کو محض مردہ سمجھ لینا۔بہت سے لوگ ہیں جو ہماری باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں اور کہتے ں کہ یہ سب کچھ بچا اور درست ہے مگر جب اُن سے کہا جاوے کہ پھر تم اس کو قبول کیوں نہیں کرتے تو وہ یہی کہیں گے کہ لوگ ہم کو برا کہتے ہیں۔۔۔“ جیسا کہ ہم دعوت الی اللہ کے تعلق میں روز مرہ محسوس کرتے ہیں اور بعض احمدی بسا اوقات خط بھی لکھتے ہیں اور زبانی بھی بتاتے ہیں کہ ایک شخص احمدیت کے بہت قریب آ گیا ہے۔علیحدگی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا اقرار کرتا ہے۔کہتا ہے احمدیت سچی ہے لیکن جب کہا جائے کہ بیعت کیوں نہیں کرتے تو کہتا ہے کہ دنیا کے تعلقات حائل ہیں۔لوگ کیا کہیں گے؟ مجھ