خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد ۱۱ 443 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء انسان اس درجہ کو حاصل کرتا ہے۔جب تک وہ دنیا کے درخت سے کاٹا جا کر الوہیت کی شاخ کے ساتھ ایک پیوند حاصل نہیں کرتا اس کی سرسبزی اور شادابی محال ہے۔۔۔پس دنیا سے کٹنے کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ سے وابستہ ہونے کا مضمون تبتل میں پایا جاتا ہے جسے تبتل الی کے الفاظ کے استعمال سے بیان فرمایا گیا۔یعنی ایک چیز سے کٹنا اور ساتھ ہی دوسری چیز سے پیوستہ ہو جانا کیونکہ درمیان کی حالت خطرے کی حالت ہے اور اگر ایک چیز کو اس کی اصل سے اکھیڑ کر دوسری طرف جلدی منتقل نہ کیا جائے تو زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔مگر قرآن کریم نے جو مضمون بیان فرمایا ہے وہ ایک ساتھ ہی جاری ہونے والا مضمون ہے۔ایک طرف انسان کہتا جاتا ہے اور دوسری طرف پیوست ہوتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں۔وو۔۔۔دیکھو جب ایک درخت کی شاخ اُس سے کاٹ دی جاوے تو وہ پھل پھول نہیں دے سکتی خواہ اسے پانی کے اندر ہی کیوں نہ رکھو اور ان تمام اسباب کو جو پہلی صورت میں اس کے لئے مایۂ حیات تھے ، استعمال کر ولیکن وہ کبھی بھی بار آور نہ ہوگی۔اسی طرح پر جب تک ایک صادق کے ساتھ انسان کا پیوند قائم نہیں ہوتا وہ روحانیت کو جذب کرنے کی قوت نہیں پاسکتا جیسے وہ شاخ تنہا اور الگ ہو کر پانی سے سرسبز نہیں ہوتی۔اسی طرح پر یہ بے تعلق اور الگ ہو کر بار آور نہیں ہوسکتا۔پس انسان کو متبتل ہونے کے لئے ایک قطع کی ضرورت بھی ہے اور ایک پیوند کی بھی۔خدا کے ساتھ اُسے پیوند کرنا اور دنیا اور اس کے تمام تعلقات اور جذبات سے الگ بھی ہونا پڑے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل دنیا سے الگ رہ کر یہ تعلق اور پیوند حاصل کرے گا۔نہیں بلکہ دنیا میں رہ کر پھر اس سے الگ رہے۔یہی تو مردانگی اور شجاعت ہے اور الگ ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی تحریکیں اور جذبات اس کو اپنا زیر اثر نہ کر لیں اور وہ ان کو مقدم نہ