خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۱۱ 426 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء ہے کہ جسم Shatter ہو گیا اس وقت جو آپ نے سردی محسوس کی ہے اس کے نتیجہ میں فرمایا زملونی تو ایک معنی اس کا یہ کیا جاتا ہے کہ یا يُّهَا الْمُزَّمِّل اے وہ شخص جو میری وحی کے رعب تلے چادر میں لپٹ گیا ہے اور ایک مستقل معنی اس کا یہ ہے کہ وہ شخص جو دنیا سے تعلق توڑنے کے لئے اللہ کے لئے خالص ہونا چاہتا ہے اور اپنے آپ کو سمیٹ رہا ہے اور لپیٹ رہا ہے۔چادر گرمی سے بچاؤ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔یہ ایک قسم کی Insulation ہے۔ایک ایسی چیز جو ماحول سے کاٹتی ہے اور آپ کے بدن کو ماحول کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے تو اس کا دائمی اور مستقل معنی یہ ہے کہ اے میرے وہ بندے جو تمام دنیا سے کٹ کر میرے لئے خالص ہو جانا چاہتا ہے جو دنیا کے ہر قسم کے اثرات سے بچ کر اپنا قبلہ صرف مجھے بنانا چاہتا ہے اور میری تحویل میں آجانا چاہتا ہے میں تجھے اس کا علاج بتاتا ہوں کہ یہ کیسے ہوگا۔پس پہلے دنیا سے کٹنے کا اور خدا کے لئے خالص ہو جانے کا ارادہ ہے۔اس ارادے کے بعد اگلا قدم کیا ہے۔فرمایا قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا۔رات کو اُٹھا کر وہ لوگ جو پانچ وقت کی عبادت کرتے ہیں ان کی عبادت میں کچھ نہ کچھ رات کا حصہ پایا جاتا ہے، مغرب کی نماز بھی رات کی نماز ہے عشاء کی نماز بھی رات کی نماز ہے اور صبح کی نماز کا ایک حصہ بھی رات ہی کی نماز کہلاتا ہے کیونکہ سورج غروب ہونے اور سورج چڑھنے کے مابین جو زمانہ ہے وہ رات کا زمانہ ہے لیکن اس میں جس عبادت کا ذکر ہے وہ اس کے علاوہ ہے اور وہ تہجد کی عبادت کا ذکر ہے۔پس رات کے نصف سے مراد یہ نہیں ہے کہ سونے کے بعد اور عام طور پر صبح کی نماز پر اُٹھنے سے پہلے جو وقت ہے اس کا نصف اگر اس کا نصف کیا جائے تو آرام کے لئے بہت ہی تھوڑا وقت ملتا ہے پس رات کے نصف سے مراد یہ ہے کہ کچھ حصہ پہلے ہی عبادت میں کٹ جاتا ہے۔مغرب کی نماز ہے وہ بھی عبادت میں صرف ہوتی ہے، پھر سنتیں ہیں نوافل ہیں ہر شخص کو اپنی اپنی توفیق کے مطابق اس پر کچھ نہ کچھ وقت لگانا پڑتا ہے۔پھر عشاء کی نماز اور اس کے تقاضے اور آگے اور پیچھے سنتیں اور عبادتیں ہیں، پھر صبح کی نماز کی تیاری اور صبح کے وقت کی تلاوت یا نماز پر جانے سے پہلے سنتیں یہ تو وہ حصے ہیں جو ہر مومن کو کچھ نہ کچھ نصیب ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نصف رات اس کے علاوہ خدا کی خاطر صرف کیا کر۔وہ جو نصف رات ہے۔اس کے متعلق مختلف مفسرین نے مختلف اندازے لگائے ہیں یہ