خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 425
خطبات طاہر جلد ۱۱ 425 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء جاتا ہے کہ کہاں وہ عظمتیں اور رفعتیں جن تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی رسائی ہوئی اور کہاں وہ بلند پروازیاں اور کہاں عاجز زمین کا کیڑا ؟ یہ باتیں تو صرف حضور ہی کے لئے خاص ہیں ہم لوگ اس میں مخاطب ہی نہیں اور ان باتوں کو قبول کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔یہ خیال غلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مضمون فصاحت و بلاغت کے ساتھ رفعتوں کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے تو انسان کا ذہن ایک ایسی فضاء میں اُڑنے لگتا ہے کہ اس کو حقیقت کی دنیا میں اس مضمون کو چسپاں کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور اس کی تفصیل سے آگاہ نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے ان آیات میں جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں دَنا کی کیفیت بیان فرمائی ہے فرمایا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کا دن کیسے ہوا تھا۔اور یہ وہ دنو ہے جس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ہر مومن پاسکتا ہے کیونکہ یہ ایک Realistic مضمون ہے ایک حقیقت پر مبنی مضمون ہے۔اب یہ اونچی فضاؤں کی باتیں نہیں ہور ہیں۔اس دنیا میں دنیا سے تعلق توڑنے اور خدا سے تعلق جوڑنے کا مضمون بیان ہوا ہے اور ایسے واقعاتی رنگ میں بیان ہوا ہے کہ انسانی ذہن رفعتوں میں نہیں الجھتا بلکہ دنیا کے عام حالات میں چلتے پھرتے اپنی زندگی پر اس مضمون کو چسپاں کرتے ہوئے اپنے حالات کا جائزہ بھی لے سکتا ہے اور اپنے لئے آئندہ لائحہ عمل بھی معین کر سکتا ہے۔پس دنا کے مضمون میں آنحضور ﷺ کی رفعتوں کا ذکر فرما کر خدا تعالیٰ نے اس موقع پر آنحضور ﷺ کے ان کمالات کا ذکر فرمایا ، ان محنتوں اور جدو جہد کا ذکر فرمایا جن کے نتیجہ میں آنحضور ﷺ کو رفعتیں عطا ہوئیں۔یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَايُّهَا الْمُزَّمِّلُ اے چادر میں لیٹے ہوئے انسان مُزَّمِّل کی ایک عام تشریح یہ کی جاتی ہے کہ آنحضور ﷺ پر جب وحی نازل ہوئی تو واپس جا کر آپ نے اس وحی کے اثر کے نتیجے میں ایسی کیفیت محسوس کی جیسی کیفیت بخار چڑھنے سے پہلے ہوتی ہے یعنی آپ کی طبیعت پر اتنا غیر معمولی اثر تھا، اتنی قوی وحی تھی کہ اس کے بوجھ سے آپ کانپ رہے تھے اور اس موقع پر آپ نے زملونی فرمایا کہ مجھے چادر اوڑھ دو، مجھے کپڑے پہنا دو۔یعنی جس طرح بیمار آدمی کہتا ہے کہ مجھ پر لحاف ڈال دو میں سردی محسوس کر رہا ہوں تو یہ کوئی ملیر یا والی کیفیت تو نہیں تھی کہ زملونی فرمارہے تھے یہ تو ایک غیر معمولی طاقت و روحی کے نزول کے نتیجہ میں جسم پر جود باؤ پڑا ہے اس سے یوں معلوم ہوتا ہے بدن پارہ پارہ ہورہا تھا جیسے کہا جاتا