خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد ۱۱ 424 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۹۲ء تَرْتِيلا اس میں سے کچھ اضافہ کر دے اور قرآن کریم خوش الحانی سے پڑھا کر۔إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلاً ہم تجھے ایک بہت ہی بوجھل بات بتانے والے ہیں ایسی بوجھل بات جس کو برداشت کرنا ، جس کے تقاضے پورے کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا لیکن اس کا علاج بھی تجھے بتاتے ہیں۔رات کو اٹھنا اور خدا کی عبادت کرنا گفس کو پاؤں تلے روندنے کے لئے سب سے بڑا اور طاقتور ذریعہ ہے وَأَقْوَمُ قِيلًا اور کچی بات اور مضبوط بات وہی ہے جو رات کو اُٹھ کر کی جاتی ہے۔اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا دن بھر تیرے لئے بہت کام ہیں تو کاموں میں بے حد مصروف رہتا ہے وَاذْكُرِ اسْمَ رَبَّك اپنے رب کا نام بلند کیا کر اور اس کا ذکر کیا کر وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا اور غیروں سے تعلق کاٹ کر کلیۂ اس کی طرف خالص ہو جا یعنی کاملہ اس کا ہو جا یہاں تک کہ کسی غیر سے کوئی بھی تعلق نہ رہے رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وہ مشرق کا بھی رب ہے اور مغرب کا بھی رب ہے لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وہی ایک خدا ہے جس کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلا اس پر تو کل کر اور وہی تیراو کیل ہے۔ان آیات میں جو مضمون تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے اس سے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود کا ایک بہت ہی عارفانہ اقتباس میں نے آج آپ کے سامنے پڑھنے کے لئے مخصوص کیا ہے لیکن اس سے پہلے میں مختصراً آپ کو بتا تا ہوں کہ دن کے مضمون کے ساتھ ان آیات کا بہت گہرا تعلق ہے۔اس سے پہلے گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی سے اعلیٰ شان یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب کے قریب ہوئے اور اتنا قریب ہوئے کہ افق اعلیٰ تک آپ ﷺ کی رسائی ہوئی وہ افق اعلیٰ جس پر کسی اور نبی کی رسائی نہیں ہوئی تھی وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب سے وہ سب کچھ پایا جو ایک بندہ پاسکتا ہے اور پھر اس سے بوجھل ہو کر، اس رحمت سے لد کر زمین کی طرف جھکے اور بنی نوع انسان کے لئے رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گئے۔الله یہ مضمون اتنی عظمتوں اور رفعتوں والا مضمون ہے کہ عام انسان یہ سوچتا ہے کہ شاید میری وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں اس لئے یہ باتیں میرے لئے نہیں بلکہ مجھ سے بہت اونچی باتیں ہیں اور اس مضمون پر غور کرنے کے بعد بعض دفعہ دل میں تحریک اور تحریص ہونے کی بجائے عام انسان بجھ سا