خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 398

خطبات طاہر جلدا 398 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۹۲ء لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کہ خدا کے وہ بندے جن کا ذکر ہو رہا ہے یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جوڑوں سے خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اپنے ساتھ ساتھیوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما وَذُرِّيتنا اور آئندہ جو نسلیں جاری ہوتی ہیں ان سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔ اس دعا کا اثر بہت وسیع ہے اور عائلی زندگی سے تعلق رکھنے والے سارے مضامین اس کے تابع آجاتے ہیں۔ کچھ کے متعلق میں نے پہلے ذکر کیا تھا ۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میاں بیوی میں بہت سے اختلافات مثلاً بچوں کے متعلق پیدا ہو جاتے ہیں اور بچوں کی تربیت کے متعلق بھی جو اختلافات ہیں وہ بعض دفعہ بہت سخت سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ بعض دفعہ بچیوں کی شادیاں نہیں ہو رہی ہوتیں اور اس کی وجہ سے ایک مصیبت بن جاتی ہے، بعض دفعہ شادیاں کی جاتی ہیں تو اس انداز سے نہیں کی جاتیں جو خدا کو منظور ہے اور اس کے نتیجہ میں اپنا گھر بھی اور دوسروں کا گھر بھی جہنم بن جاتا ہے تو اس دُعانے ہمیں یہ سکھایا کہ اے خدا ! ہمیں ایک دوسرے سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما بلکہ اپنی اولاد کی طرف سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔ وہ لوگ جو اولاد کے حق میں یہ دُعا کرتے ہیں ان کو اس دعا کے سیاق و سباق پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ خدا کے نزدیک آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی کیا ہے ورنہ ایک انسان اس نیت سے یہ دُعا کرے کہ اے خدا! میری اولاد بڑے بڑے مراتب تک پہنچے، بڑی دولتیں سمیٹے خواہ رشوت کھا کر ہی وہ امیر بنی ہو تو میری آنکھوں کو ٹھنڈک ملے گی۔ اس کی نیت میں اگر فتور ہے، اگر وہ آنکھوں کی ٹھنڈک کی تعریف ہی نہیں سمجھتا تو ہزار یہ دُعا کرے وہ قبول نہیں ہو سکتی ۔ اس دُعا کا ایک موسم ہے جو اس کے ساتھ بیان ہو چکا ہے۔ اس موسم کے پیش نظر یہ دعا مانگی جائے گی اور اس موسم میں جب مانگی جائے گی تو ضرور قبول ہوگی ۔ اس میں آنکھوں کی ٹھنڈک کی تعریف بھی بیان فرمادی ہے۔ ان لوگوں کی محبتیں کس چیز میں ہیں ۔ ان کی چاہتیں کیا ہوتی ہیں ، ان کی آرزوئیں کیا ہیں ، ان کو کیا چیز پسند ہے؟ یعنی وہ مومن جس کی پسند یہ ہو، جن کی چاہتیں یہ ہوں ، جن کی آرزوئیں یہ ہوں ، وہ جب خدا سے دُعا مانگتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطافرما تو پھر ان کو یہ ٹھنڈک عطا کی جاتی ہے اور ضرور کی جاتی ہے۔ اب بہت سے ایسے جھگڑے ہیں جس میں میں سمجھتا ہوں کہ اس دُعا کے مضمون کو نہ سمجھنے