خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 399
خطبات طاہر جلد ۱۱ 399 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۹۲ء کے نتیجہ میں اعمال بگڑتے ہیں اور پھر ایک انسان جتنا چاہے یہ دُعا مانگے وہ دُعا قبول ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر اعمال کا رُخ مشرق کی طرف ہے اور دُعا کا رُخ مغرب کی طرف ہے تو نتیجہ وہی رہے گا جو اعمال کا رُخ ہے کیونکہ یہ قانون قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ زبردستی کسی قوم کی تقدیر نہیں بدلا کرتا۔عمل بتاتے ہیں کہ اصل نیست کیا ہے اور عمل کے بغیر دعا رفعت نہیں پاتی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عمل مشرق کا ہو تو مغرب کی طرف کی دُعا کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔وہ بھی گھسیٹتی ہوئی مشرق کی طرف نکلتی چلی جائے گی اور بالکل الٹ نتیجہ پیدا کرے گی۔میرے سامنے ایسے تکلیف دہ واقعات آتے رہتے ہیں۔میں چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور اس کے بعد میں آپ کو سمجھاؤں گا اور آپ خود ہی سمجھیں گے کہ جن لوگوں کے یہ اعمال ہوں ان کی دعا ئیں ان کے حق میں کیسے پوری ہوسکتی ہیں کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - بعض خاندان ایسے ہیں جن میں سیاست کے رشتے ہوتے ہیں۔بہنیں آپس میں مل کر سر جوڑتی ہیں ، ساس بھی شاید شامل ہو جاتی ہو بعض اوقات بھائی بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایک قسم کا نجوٹی ہوتا ہے اور بہت سے ایسے گھر ہیں جہاں رشتوں سے پہلے ایسی سیاستیں برتی جاتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ امیر کی لڑکی لے کر آئیں گے اس کے نتیجہ میں بیٹے کا مستقبل بھی بنے گا اس کے لئے کارلی جائے گی اس کے لیے فریج مانگے جائیں گے۔شروع میں بے شک نرمی دکھاؤ، بے شک شروع میں یہی کہو کہ جی ہمیں تو بیٹی چاہئے اور کچھ نہیں چاہئے اور جب یہ وعدے کر لو اور اگلے کو دھوکہ دے لو تو پھر جب بیٹی قابو آئے گی تو پھر اس کے ذریعے جیسے لیور ہاتھ آجاتا ہے اس کے لئے دباؤ ڈالیں گے اور کہیں گے کہ اب یہ کر واب وہ کرو۔بیٹا اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ گیا ہوا ہے مگر جب تک تم مدد نہ کرو گے اس کا گزارا ہی نہیں ہو سکتا نہیں کرو گے تو تمہاری بیٹی کی زندگی جہنم بنے گی۔یہ باتیں جو میں بیان کر رہا ہوں یہ کوئی فرضی باتیں نہیں ہیں واقعہ خاندانوں میں ایسی بدبختی کی باتیں ہوئی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہر طرف درد بکھر گیا ہے، عذاب پیدا ہو گیا ہے، ایک معصوم بچی کی زندگی برباد، اس کے رشتہ داروں کی زندگی برباد۔ایسے ایسے معزز شریف خاندانوں میں ایسی باتیں ہوئی ہیں جن کو میں دیر سے جانتا ہوں۔ان کے اندر خدا کے فضل سے تقویٰ ہے، نیکی ہے، سادگی ہے اور اس سادگی کی وجہ سے وہ فتنے کی ایسی باتوں میں مبتلا ہو گئے اور دھوکا میں آگئے اور اب اُن کی بچی کی زندگی عذاب بنی