خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۱۱ 397 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۹۲ء کا اثر تریاق کے طور پر سرایت کر جاتا ہے۔یہ آئندہ نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور موجودہ زمانے کو بھی ہر قسم کی خرابیوں کا توڑ اس دعا میں سکھایا گیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کے با وجود کئی گھر بدنصیبی سے اس دعا کے فائدے سے محروم رہے۔میں نے اس خیال سے دوبارہ ان آیات پر غور کیا کہ ایسی مؤثر دعا قبول کیوں نہیں ہو رہی یا کم سے کم بعض گھروں کی صورت میں نہیں ہو رہی تو معرفت کے بعض ایسے سکتے ہاتھ آئے کہ میں نے سوچا کہ جماعت کو بھی ان میں شریک کروں۔قرآن کریم نے جہاں جہاں دعائیں سکھائی ہیں وہاں ان دُعاؤں کا ایک ماحول بھی بتایا ہے۔جیسے بیج بونے کے موسم ہوتے ہیں، جیسے فصلیں کاٹنے کے موسم ہوتے ہیں اور انہی موسموں میں بیج بوئے جاتے ہیں جو بونے کے موسم ہیں اور انہی موسموں میں فصلیں کائی جاتی ہیں جو کاٹنے کے موسم ہوتے ہیں وہ موسم ایک زمیندار کے لئے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کب کاشت کرنی ہے ، کب پھل کاٹنا ہے پھر زمینیں مختلف قسم کی ہیں آب و ہوا کا اختلاف ہے۔یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ کون سا پودا کس جگہ صحیح معنوں میں کاشت کیا جا سکتا ہے یا نصب کیا جا سکتا ہے اور کس فضا میں وہ پھل دے گا۔تو قرآن کریم کی دعاؤں پر جب میں نے اس نقطہ نگاہ سے غور کیا اور توجہ اسی دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہر دعا کا موسم بیان فرمایا گیا ہے اس کا پس منظر بیان فرمایا گیا ہے۔تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کونسی دعا ئیں کس طرح کی جائیں تو مقبول ہوتی ہیں اور کیوں مقبول ہوتی ہیں۔کیا باتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ نہ پیدا ہوں تو دُعاؤں میں اثر پیدا نہیں ہوتا۔اصولی طور پر بھی دعا سے متعلق نصیحتیں موجود ہیں کہ اگر دعا کرنی ہے تو مثلاً نیک اعمال کے ذریعہ اس کو طاقت دو۔کلمہ طیبہ دعا کی صورت میں بھی اُٹھتا ہے لیکن خدا کے دربار تک تب پہنچتا ہے اگر عمل صالح ، نیک اعمال اُسے پمپ کر کے اوپر بھیج رہے ہوں اگر نیک اعمال اس میں اُڑنے کی طاقت ہی پیدا نہ کریں تو جانور خالی پروں سے تو نہیں اڑ سکتا اس کے اندر طاقت ہونی چاہئے۔پس دعا کا مضمون بہت ہی دلچسپ ہے اور قرآن کریم میں جس رنگ میں بیان ہوا ہے اس کی روشنی میں دعاؤں کی مقبولیت یا نا مقبولیت سے متعلق کوئی پہلو ایسا نہیں جو قرآن نے پیش نہ فرمایا ہو۔اب یہی عائلی زندگی کی بحث ہے۔میں نے اس سے پہلے کی چند آیات اور اس کے بعد کی آیات پچھنی ہیں جن میں یہ آیت دُعا کے طور پر نصب ہے۔وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ