خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد ۱۱ 34 =4 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء بیان کر رہا ہوں اور تمام دنیا کے احمدی تاجروں اور صنعتکاروں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اگر اس نیست سے کہ قادیان جو حضرت اقدس مسیح موعود اللہ کی پیدائش اور روحانی پیدائش کا مقام ہے اس کی خاطر وہ اپنی توفیق کے مطابق کچھ خدمت کا حصہ لیں تو قادیان کی بہت سی رونقیں بحال ہوسکتی ہیں جن کا مرکز سلسلہ کے آخری قیام سے گہرا تعلق ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک لمبا عرصہ محنت کا کام ہے۔مسائل بہت سے ہیں جوڈو بے پڑے ہیں آپ کو دکھائی نہیں دے رہے مگر بہت مسائل ہیں جن پر نظر پڑتی ہے تو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔Iceberg کی جو مثال میں نے دی ہے یہ عمدادی ہے کیونکہ اس میں جو حصہ باہر دکھائی دیتا ہے بڑا خوشنما لگتا ہے اور خوشخبری کا پیغام ہوتا ہے کہ زمین کی طرح کا ایک جزیرہ سمندر کے اندرمل گیا لیکن جو ڈوبا ہوا حصہ ہے اس سے لاعلمی کے نتیجہ میں ہمیشہ حادثات ہو جاتے ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے عظیم الشان جہاز نچلے حصوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئے تو مراد یہ ہے کہ جو مسائل گہرے ہیں اور ڈوبے ہوئے ہیں ان پر اگر نظر نہ رکھی جائے تو وہ خطرناک ہو سکتے ہیں اس لئے قادیان سے تعلق رکھنے والے ان مسائل پر نظر رکھنا ہمیں ضروری ہے جو اس وقت سطح سے نیچے ہیں ان میں ایک حصہ قادیان کے درویشوں کی اقتصادی بحالی کا حصہ ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور دوسرا حصہ قادیان کے باشندوں میں یہ احساس کروانا ہے کہ جماعت احمدیہ کے وقار کے ساتھ تمہارے دنیاوی فوائد بھی وابستہ ہیں اور یہ وہ احساس ہے جو پہلے ہی ابھر چکا ہے۔مثلاً اس دفعہ جلسہ میں چونکہ غیر معمولی تعداد میں لوگ باہر سے تشریف لے گئے تھے اور بعض دفعہ ضرورت کے مطابق انہوں نے وہاں کی دکانوں سے چیزیں خریدیں۔بعض دفعہ قادیان کی محبت اور شوق میں کوئی تحفہ گھر لیجانے کے لئے انہوں نے وہاں سے چیزیں خریدیں تو وہاں کے تاجروں کے ایک نمائندہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے تخمینے کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی شاپنگ ہوئی ہے جو قادیان جیسے قصبے کے لئے ایک بہت بڑی چیز تھی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بار بار تاجروں کے وفود آئے اور بڑی منت سماجت کے ساتھ کہا کہ آپ لوگ واپس آجائیں ساری برکتیں جماعت ہی کی ہیں۔جماعت ہی کا مرکز ہے۔آپ کے بغیر کوئی بات نہیں بنتی۔ان کی نظر روحانی رونقوں پر تو نہیں تھی ان کی تو اقتصادی فوائد پر نظر تھی۔اس پہلو سے اگر وہاں اقتصادی خدمت کے کام ہوں تو اس علاقہ پر بہت عمدہ اثر مترتب ہوگا