خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد ۱۱ 33 33 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء کوشش کریں گے لیکن باہر کی دنیا سے بھی کثرت سے لوگ وہاں جاسکتے ہیں اور ہندوستانی قوانین کا لحاظ رکھتے ہوئے وہاں کئی قسم کی صنعتیں قائم کر سکتے ہیں۔اس کی طرف آنے سے پہلے ایک رؤیا میں بھی اشارہ ہوا جس کی اور بہت مبارک تعبیروں میں سے ایک یہ بھی تعبیر ہے کہ باہر کی دنیا کے صنعتکاروں اور صاحب حیثیت احمدیوں کو قادیان میں خدمت کی توفیق ملے گی۔جس دن میں نے قادیان سے روانہ ہونا تھا اس صبح کو رویا میں دیکھا کہ چوہدری شاہ نواز صاحب مرحوم مغفور بہت ہی اچھی صحت میں اور بہت خوبصورت دکھائی دینے والے قادیان آتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد یعنی مردوں کو میں نے دیکھا ہے اور دور دور کے رشتہ دار اور مداح ایک جمگھٹ بنا کر ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں بہت ہی محبت اور تعریف کی نظر سے ان کو دیکھ رہے ہیں۔جو پگڑی انہوں نے پہنی ہوئی ہے وہ مجھے تو بہت خوبصورت لگ رہی ہے اور باقی ان کو یہ مشورے دے رہے ہیں کہ نہیں اس طرح نہیں آپ اس طرح باندھیں۔کوئی کہتا ہے اس طرح نہیں اس طرح باندھیں۔تو میں چوہدری صاحب کو کہتا ہوں کہ چوہدری صاحب آپ تو مجھے اس میں اتنے اچھے لگ رہے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں آپ کو کبھی ایسا لگتا نہیں دیکھا تھا اور چوہدری صاحب یہ کہتے ہیں اور بغیر آواز کے بھی مسلسل ان کے دل کی یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ باقی سب مشورے دینے والوں کو کہتے ہیں تم جو مرضی مشورے دو میں تو وہی مانوں گا جو مجھے یہ کہے گا اور کسی کی بات نہیں مانی۔بار بار ان کے دل سے جس طرح خوشبو اٹھتی ہے اس طرح یہ آواز اٹھ کر مجھ تک پہنچتی ہے اور میں بھی بڑے اطمینان اور محبت سے ان کو دیکھتا ہوں کہ اللہ نے خاص اخلاص ان کو بخشا ہے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کر رہے کہ کتنے مداح ہیں کس طرح تعریفیں کر رہے ہیں اور کیسے کیسے مشورے دے رہے ہیں لیکن یہی کہتے جارہے ہیں کہ میں تو وہی مانوں گا جو یہ کہے گا۔چنانچہ اس کی اور بہت سی مبارک تعبیریں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باہر کے احمدی Industrialists کو قادیان جا کر خدمت کی توفیق ملے گی اور دوسرے اس میں یہ پیغام ہے کہ برکت اسی میں ہوگی جو خلیفہ کی مرضی کے ماتحت کام ہو، اس کی خوشنودی کے مطابق ہو ، اور اپنے طور پر یا اپنے حوالی حواشی وغیرہ کے ساتھ ان کے مشوروں پر چل کر خود کوشش کرو گے تو وہ خدا کے نزدیک مقبول کوشش نہیں ہوگی۔پس یہ ایک تعبیر ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون سے تعلق رکھتی ہے جو میں