خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 35
خطبات طاہر جلد ۱۱ 35 55 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء اور جو طلب پیدا ہو چکی ہے وہ اور زیادہ بڑھے گی۔اس طلب میں صرف اقتصادی فوائد پیش نظر نہیں تھے بلکہ مقامی طور پر جو بھاری اکثریت ہے وہ سکھوں کی ہے اور سکھوں نے دل کی گہرائی سے یہ محسوس کیا ہے کہ یہ جماعت نیک جماعت وہ ہے، نیک لوگوں کی جماعت ہے اور ان کے دل میں نیکی کی عزت اور قدر ہے اور بگڑے ہوئے حالات کی وجہ سے وہ امن چاہتے ہیں۔چنانچہ سکھوں کے بہت بڑے بڑے وفود یعنی بڑی بڑی حیثیت کے وفود جن کے پیچھے قادیان کی بہت سی آبادی تھی انہوں نے مل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ قادیان کی اصل برکت جماعت احمدیہ سے ہے اور یہ صرف قادیان تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر جماعت احمد یہ قادیان میں واپس آجائے تو سارے علاقے کی برکتیں لوٹ آئیں۔یہ جو تاثر ہے یہ بغیر کسی لاڈ کے بغیر کسی بناوٹ کے بے اختیار دلوں سے اٹھ رہا تھا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر جب میں صبح کی سیر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چلا جاتا تھا تو واپسی پر ایک گوردوارے کے سربراہ مجھے ملے اور انہوں نے کہا۔آپ گزر رہے ہیں شکر ہے خدا کا کہ ہمیں ملنے کا موقع مل گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ آپ آئے ہیں تو قادیان میں بڑے مرید بنائے ہیں۔مراد یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کے بہت مداح پیدا ہو گئے ہیں اور ایک وفد نے تو یہ کہا کہ ہم تو جماعت احمدیہ کے ساتھ ایسا تعلق رکھتے ہیں کہ ہمیں یہاں کے لوگ آدھا احمدی کہتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم پورے احمدی ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ جو تائید کی ہوائیں چلائی ہیں یہ کوئی بے مقصد ہوا ئیں نہیں ہیں اور کوئی عارضی خوشیوں والی ہوائیں نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ بتا رہا ہے کہ میں دلوں کو اس طرف مائل کر رہا ہوں اور ان کو مستقل باندھنے کے لئے اب تمہیں محنت کرنی ہوگی اور کوشش کرنی ہوگی اور جن اعلیٰ مقاصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے دلوں کو بدلا ہے ان مقاصد کی پیروی سنجیدگی سے کرنی ہوگی۔اس پہلو سے میں نے جیسا کہ بیان کیا ہمیں وہاں قادیان کو Industrialize کرنے کی بہت ضرورت ہے تاکہ بیرونی غریب جماعتیں کثرت سے وہاں جا کر آباد ہوں۔بہت سے گجر مسلمان ہیں جو قادیان میں آتے بھی رہے بیعتیں بھی کرتے رہے۔پھر اپنے کاموں سے ادھر ادھر بکھر جاتے رہے۔ان کو اگر مستقل قادیان میں بیٹھنے کے سامان مہیا ہوجائیں تو ان کے اندر