خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 373

خطبات طاہر جلدا 373 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء ساری جماعت کو مطلع کیا جائے گا۔ریکارڈنگ موجود ہے، میں امید رکھتا ہوں کہ امیر صاحب تک وہ پہنچائیں گے، بڑے چھوٹے ، مرد عورت سب کا خود اپنے کانوں سے وہ سننا ضروری ہے۔وہ جب آپ سنیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ ایک دو سال کے اندر پین کو وسیع پیمانے پر اور سائنسی طریق پر حکمت کے ساتھ احمدیت کا پیغام پہنچانے کا ایک منصوبہ تیار ہوا ہے۔اس میں آپ سب کا حصہ لینا ضروری ہے۔وہ لوگ جو مربی یا مبلغ بن چکے ہیں اللہ کے فضل سے ان کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو یہ بتایا جائے گا کہ کس طرح تبلیغ کرنی ہے لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں تبلیغ کے بعد پھر اپنی تربیت کی بڑی ضرورت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تبلیغ کے کام پھیلتے ہیں تو تربیت کے تقاضے خود بخود پھیل جاتے ہیں اور ہر نیا آنے والا تربیت کی طلب کرتا ہے۔وہ آپ سے پوچھے گا کہ مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟ اب جو تو نے مجھے نئی زندگی بخشی ہے تو میں کیسا وجود بنوں؟ کس طرح میں اسلام اور احمدیت سے استفادہ کروں؟ یہ سارے سوال ہیں جو اٹھنے والے ہیں۔اگر آپ نے اس سے پہلے پہلے کہ یہ تبلیغ کثرت سے پھیل جائے اپنی تربیت نہ کی تو آنے والے کل کو سنبھال نہیں سکیں گے اور جو شخص خواہ وہ کیسا ہی محنتی زمیندار کیوں نہ ہو اپنے پھل کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کی محنتیں پھل لانے کے باوجو د ضائع ہو جائیں گی۔بعض دفعہ اپنے اختیار میں ہوتا ہے پھل کوسنبھالنا بعض دفعہ نہیں ہوتا اور ہر زمیندار کو تجربہ ہے کہ جب تک دانے گھر نہ آجائیں اس وقت تک اس کا دل اطمینان نہیں پکڑتا۔دانوں کا گھر میں آجانا تربیت سے تعلق رکھتا ہے۔پھل سنبھالنے کا یہی مطلب ہے۔ورنہ ہم نے دیکھا ہے سارا سال محنتیں کرنے کے باوجود بعض دفعہ آخری چند دنوں میں ایسی آندھی آتی ہے ایسا طوفان برپا ہوتا ہے کہ ساری فصل جو پکی ہوئی ہے، کٹ کر چند دنوں کے اندرگھر پہنچنے والی تھی وہ مٹی میں گھل جاتی ہے اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو آپ جن کی تربیت کر رہے ہیں ان کے پیچھے تو ہمیشہ دن رات بعض مخالف طاقتیں لگی رہتی ہیں اور جب وہ احمدی ہو جاتے ہیں تو اور زیادہ شدت کے ساتھ منصوبے بنا کر اُن کو آپ سے توڑنے کی کوشش کی جائے گی اس لئے کسی اتفاقی آندھی کا سوال نہیں ہے، ہر روز چلنے والی ایک مصیبت کا نام ہے یعنی تبلیغ کی راہ میں جو لوگ حائل ہوتے ہیں وہ ایک مصیبت ہیں جو ہمیشہ ہر نئے ہونے والے احمدی کے پیچھے پڑ کر واپس مرتد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے راہ میں مشکلات