خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۱۱ 31 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء سمندر میں سفر کرنے والے جانتے ہیں یعنی جن کا کام شمال اور جنوب میں جانا ہے اور وہ ان باتوں کے متعلق اپنی زندگی کے واقعات میں بڑے دلچسپ انداز میں تذکرے بھی کرتے رہتے ہیں کہ بعض دفعہ پانی میں سے برف کا اتنا بلند پہاڑ اونچا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ آدمی حیرت اور استعجاب میں ڈوب جاتا ہے لیکن انسان اگر یہ سوچے کہ اس سے 9 حصے زیادہ پانی کے اندر ڈوبا ہوا وہ پہاڑ ہے تو اور بھی زیادہ ہیبت بڑھتی ہے۔تو یہ خوشخبریاں بھی جب پوری ہوتی ہیں تو ان کا ایک حصہ باہر دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور جوڈوبے ہوئے حصے ہیں وہ مسائل سے تعلق رکھتے ہیں جو مسائل حل ہو جائیں وہ سطح سمندر سے باہر دکھائی دے رہے ہوتے ہیں اور جو ابھی ڈوبے ہوئے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہوتے ہیں پس ہمیں ان ڈوبے ہوئے مسائل کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔قادیان کی عظمت اور عزت اور جلال اور جمال کو بحال کرنے کے لئے ساری دنیا کی جماعتوں کو بہت محنت کرنی ہے اور ہندوستان کی جماعتوں کے کھوئے ہوئے وقار اور مقام کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے ساری دنیا کی جماعتوں کو بہت محنت کرنی ہوگی۔اس سلسلہ میں جہاں تک آبادی کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قادیان کو Industrialize کرنے میں ضرور محنت کرنی ہوگی۔جب تک وہاں تجارتی اور صنعتی مراکز قائم نہ کئے جائیں اس وقت تک صحیح معنوں میں باہر سے احمدی آکر وہاں آباد نہیں ہو سکتے اور مقامی احمدیوں کا انخلاء رُک نہیں سکتا۔درویشوں نے اور بعد میں آکر بسنے والوں نے اتنی بڑی قربانی دی ہے کہ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے ، دور بیٹھے اس کی باتیں سن کر آپ کو تصور نہیں ہوسکتا کہ کتنے محدود علاقے میں رہ کر انہوں نے ساری زندگیاں ایک قسم کی قید میں کائی ہیں اور اپنے دنیاوی مفادات کو ایک طرف پھینک دیا، قربان کر دیا اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور ان کی نگہبانی کے لئے اپنی ، اپنے بچوں اور اپنی بیگمات کی زندگیاں قربان کیں۔بہت ہی بڑی عظیم الشان قربانی ہے، اس کا بھی حق ہے اس لئے ساری دنیا کی جماعتوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے بھر پور کوشش کریں۔چنانچہ یہاں سفر سے پہلے میں نے جو تحریک کی اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے