خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 32

خطبات طاہر جلدا 32 32 خطبہ جمعہ ۱۷؍جنوری ۱۹۹۲ء ساتھ ساری دنیا کی جماعتوں نے بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور خدا تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ صرف قادیان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی دیگر جماعتوں کی بھی اس خاص موقع پر خدمت کی توفیق ملی اور یہ جلسہ ان کے لئے روحانی برکتیں بھی لے کر آیا اور جسمانی برکتیں بھی لے کر آیا اور بہت ہی غیر معمولی طور پر ان لوگوں نے اس کی لذت محسوس کی ہے تو یہ جسمانی طور پر جو خدمات ہیں اس میں ساری دنیا کی جماعتوں نے حصہ لیا ہے ورنہ یہ ممکن نہیں تھا اور یہ اچھا ہوا کہ پہلے یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ آپ لوگ اپنے طور پر انفرادی طور پر وہاں جا کر کسی کو دینے کی بجائے جماعت کی معرفت کوشش کریں جو کچھ پیش کرنا ہے جماعت کو دیں تا کہ ایک مربوط طریق پر منظم منصوبے کے ساتھ جو جوضرورتمند ہیں ان کو یہ چیزیں پہنچائی جائیں اور ان کی عزت نفس پر کوئی ٹھیس نہ آئے ، ورنہ انفرادی طور پر جب کوئی انسان کسی غریب کی خدمت کرتا ہے تو لینے والے کی آنکھ جھکتی ہے خواہ وہ چیز کتنی ہی محبت سے پیش کی جائے۔پس خدا تعالیٰ نے بہت فضل فرمایا اور اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے تمام دنیا کے احمدیوں نے اپنے تحائف مرکز کی معرفت بھجوائے اور بہت بڑی رقوم اس سلسلہ میں اکٹھی ہوئیں جن کے نتیجہ میں جو بھی خدمت کی جاسکی ہے وہ ٹھوس ہے اور مختلف رنگ کے مختلف طبقات کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے عارضی اور بعض دفعہ مستقل ضرورتیں پوری کرنے کے سامان مہیا ہوئے۔آئندہ کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی امداد کی ضرورت کو ختم کرنا سب سے اہم خدمت ہے۔جب ضرورت ہو امداد کرنا لازم ہے اور یہ جماعت کے عالمی فرائض میں داخل ہے لیکن قرآن کریم نے خدمت خلق کا جو اعلیٰ تصور پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ ضرورت اٹھا دو اور کسی شخص کو محتاج نہ رہنے دو بجائے اس کے کہ وہ باہر مدد کے لئے دیکھتار ہے۔وہ اس نظر سے باہر دیکھے کہ کون محتاج ہے جس کی وہ ضرورت پوری کرے۔یہ اعلیٰ شان کی خدمت کی وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم میں ملتی ہے اور جس پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے نہایت ہی حسین رنگ میں عمل کر کے دکھایا ہے۔پس یہ دوسرا حصہ ہے جو میرے نزدیک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور عالمگیر جماعت احمدیہ کو اب اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس ضمن میں ہندوستان کے جو تاجر ہیں اور ہندوستان کے Industrialist ہیں ان کے متعلق میں وہاں ہدایات دے آیا ہوں۔وہ انشاء اللہ تعالیٰ قادیان کی اقتصادی بحالی کے لئے پوری