خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 30

خطبات طاہر جلدا 30 30 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء دوسری زندگی کو حقیقت جانتے ہو اور شوق اس لئے ہے کہ تمہیں پتہ لگے کہ تمہاری بہبود کس چیز میں ہے اور مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے تو پھر تمہیں اس کی تیاری کرنی چاہئے اور یہی مضمون ہے جو آج کے حالات پر صادق آتا ہے۔مستقبل کے متعلق بعض لوگ شوق سے ، یا ذرا اٹکل پچو کے ذریعہ انسان پیش خبریاں کرتا ہے یا آئندہ زمانے کو دیکھنا چاہتا ہے، ویسے دلچسپی لیتے ہیں ایسی دلچسپی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔نفس کا ایک بچگانہ کھیل ہے اس سے زیادہ اس کے کوئی بھی معنی نہیں لیکن مستقبل میں ایک دلچپسی ایسی ہے جو زندگی کے اعلیٰ مقاصد سے تعلق رکھتی ہے۔ایک انسان اپنے تن من دھن کو اسلام اور احمدیت کے اعلیٰ مستقبل کے لئے وقف کر دیتا ہے اور آئندہ مستقبل میں ہونے والے واقعات اس کی سوچوں کا ایک ایسا حصہ بن جاتے ہیں جو اس کے دل کی فکر میں ہوتی ہیں اس کے دماغ کے تفکرات ہیں کہ خدا جانے کیا ہو اور کیسا ہو اور میں اپنے فرائض سرانجام دے سکوں یا نہ دے سکوں۔یہ وہ دلچسپی ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا پوچھتے ہو تو بتاؤ کوئی تیاری بھی کی ہے۔تو جماعت کو اگر قادیان کی واپسی میں اور جماعت کے عالمگیر انقلاب میں کوئی دلچسپی ہے تو اس کی تیاری کرنی ہوگی اور قادیان کے سلسلہ میں ابھی بہت کام باقی ہیں۔جو کچھ خوشخبریاں سطح پر نظر آئی ہیں اور عام آنکھوں نے دیکھ لی ہیں ان کی مثال تو Iceberg کے اس تھوڑے سے حصے سے ہے جو صح سمندر پر دکھائی دیتا ہے۔اس کا اصل حصہ تو پانی میں ڈوبا ہوتا ہے یعنی برف کا تو دہ جو سمندر میں تیرتا ہے اس کی تھوڑی سی Tip تھوڑی سی چوٹی ہے جو سمندر سے باہر نظر آتی ہے۔ایک دفعہ پہلے بھی میں نے یہ مثال دی تھی جس پر ہندوستان کے سفر میں ایک احمدی دوست نے مجھے توجہ دلائی کہ میں غلطی سے ایک اور تین کی نسبت بتا بیٹھا۔میں ان کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے توجہ دلائی کہ ایک اور تین کی نسبت نہیں ہے بلکہ برف کی کثافت پانی کے مقابل پر جتنی کم ہے اسی نسبت سے اس کا ایک حصہ پانی سے اوپر نکلتا ہے اور غالباً یہ دس میں سے ایک حصہ باہر ہوتا ہے اور نو حصے اندر کیونکہ برف کی کثافت پوائنٹ نائن (0۔9) ہے یعنی پانی کی کثافت اگر ایک ہے تو برف 0۔9 ہے یعنی حجم اس کا زیادہ اور وزن کم تو جس نسبت سے وزن کم ہوگا اسی نسبت سے اس کا ایک حصہ باہر نکلا ہوگا تو بعض دفعہ باہر نکلے ہوئے حصے بھی بہت بڑے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔