خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد ۱۱ 29 29 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک مرکز سلسلہ باہر ہی رہے، دارالہجرت میں ہی ہو خواہ وہ دارالہجرت پاکستان کا ہو یا کسی اور جگہ کا اور قادیان کے حالات ایسے ہوں کہ بار بار خلفائے سلسلہ کو وہاں جانے کی توفیق ملتی رہے اور باہر بیٹھ کر قریب کی نگرانی کا بھی موقع ملتا ر ہے۔اس لئے خوابوں میں بسنا ان معنوں میں تو درست ہے کہ خدا تعالیٰ جو رویا دکھائے ، جو خوشخبریاں دکھائے ان امیدوں میں انسان بسار ہے ، یہی ایمان کی شان ہے لیکن ان معنوں میں خوابوں میں بسنا درست نہیں کہ اپنی مرضی سے اپنے من کی باتوں کو تقدیر بنا بیٹھے اور پھر یہ سمجھے کہ جو میری خواہشات اور تمنا ئیں ہیں جیسے میں ان کو سمجھتا ہوں اسی طرح خدا کی تقدیر ظاہر ہوگی۔یہ طریق درست نہیں ہے یہ ایک بچگانہ طریق ہے۔اس لئے سب سے پہلے تو جماعت کو اپنی امیدوں اور امنگوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہئے اور ان کو رستے سے بدکنے اور بھٹکنے نہیں دینا چاہئے۔راستے وہی معتین ہیں جو خدا تعالیٰ کی تقدیر میں مقدر ہیں اور جن کی خوشخبریاں اللہ تعالیٰ پہلے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرما چکا ہے۔ان کی روشنی میں مختلف تعبیریں ہوتی رہتی ہیں۔مختلف تعبیریں ہو سکتی ہیں اور اس ضمن میں بھی بہت سے خوش فہم لوگ اپنے دل کی تعبیروں کو زبردستی ان الہامات اور پیشگوئیوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو پھر لوگوں سے شرطیں بھی باندھ بیٹھتے ہیں کہ جو تعبیر ہم نے سمجھی ہے ویسا ضرور ہو گا۔یہ درست طریق نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے منع فرمایا کہ جو خدا کی تقدیر ہے وہ تو ظاہر ہو گی۔خوشخبریاں تو بہر حال پوری ہوتی ہیں لیکن اپنی مرضی سے ایک تعبیر کر کے اس پر تم شرطیں باندھ بیٹھو کہ یہ ضرور ہو گا یہ درست نہیں ہے لیکن جو ہونا ہے اس کی تیاری تو ہم پر فرض ہے میں اس ضمن میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک شخص نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم سے قیامت کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ مراد یہ تھی کہ اگر تمہیں دوسری دنیا میں جانے کا شوق ہے تو یہ شوق ایک بیرونی شوق بھی ہوسکتا ہے، ذاتی دلچسپی نہیں بلکہ تجب کے رنگ میں استعجاب کے رنگ میں انسان دلچسپی لے سکتا ہے اور یہ دلچسپی بے معنی اور بے حقیقت ہے۔اگر