خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 28
خطبات طاہر جلد ۱۱ 28 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء میں کنری سے وہاں گیا اور وہاں لمبی مجلس لگی اور اللہ کے فضل سے تقریباً سارے گاؤں کو ہی احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔تو اس پہلو سے اس گاؤں کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور میں پوچھتا رہتا ہوں۔تو جانے سے پہلے میں نے کسی احمدی دوست کو ایک خط لکھا تھا اور پرانی باتیں یاد کرا کے اور بعض پرانے نام لے کر اپنا محبت بھرا پیغام بھیجا تھا اس کے جواب میں ان کا خط آیا ہوا تھا اور خاص بات انہوں نے یہ کھی کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ہمارے سکھر کے اسیر آزاد ہو گئے ہیں اور اللہ کے فضل سے بہت خوشی کا سماں ہے اور میرے پاس بھی وہ تشریف لاتے ہیں تو ایک مہینے کے خطوں میں ایک ہی رؤیا ہے جس کا تعلق سکھر کے اسیروں کے ساتھ تھا اور ساتھ ہی ان کی دعا بھی ہے کہ خدا کرے میری یہ رویا پوری ہو جائے۔چنانچہ پیشتر اس سے کہ میں وہ خط پڑھتا اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ رویا پوری ہو چکی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کے پیار کے اظہار کے انداز ہیں اور یہ یقین دلانے کے لئے ہیں کہ یہ اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔جو کچھ ہورہا ہے تقدیر الہی کے مطابق ہو رہا ہے۔ورنہ ایک سے زیادہ خط الجھے ہوئے خیالات کے آتے ہی رہتے ہیں جس میں مبہم سے رنگ میں بعض خوشخبریاں بھی ہوتی ہیں لیکن سکھر کے اسیران سے تعلق رکھنے والی ایسی واضح خوشخبری اور اس کی Timing کہ کس طرح وہ خط لکھا گیا اور کس وقت پہنچا کہ جب وہ خبر بھی پہنچ رہی تھی ، یہ ساری باتیں اہل ایمان کے ایمان کو بڑھانے کا موجب بنتی ہیں۔پس یہ بھی قادیان کے جلسہ کی برکت اور اس کے بعد آنے والے پُر فضا دور کی خوشخبری ہے اور اس کے آغاز کی وہ لہریں ہیں جو بعض دفعہ اچھے موسم آنے سے پہلے ہوا میں پیدا ہوتی ہیں اور انسان کی روح کو تراوت بخشتی ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ اور بھی بہت سی خوشخبریاں خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوں گی۔قادیان کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ وہاں کی تھوڑی آبادی ہے۔بعض دوستوں کو قادیان کے اس سفر کے نتیجہ میں بہت امیدیں بندھ گئیں کہ اب قادیان کی واپسی قریب ہے لیکن میں جماعت کو سمجھانا چاہتا ہوں اور گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے مختصراً اس پر گفتگو کی تھی کہ واپسی کوئی ایک دم آنا فانا رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک دفعہ لے کر جائے گا، پھر بار بار لائے گا اور امن کے ماحول میں ایسا ہوتا رہے گا اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ خدا کی کیا تقدیر کب ظاہر ہوگی اور اس کا منشا کیا