خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد ۱۱ 311 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء غیروں سے محبت کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ان لوگوں پر نظر رکھ کر ان کو پیار اور محبت سے واپس لانا بہت زیادہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ جب معاملہ حد سے گزر جائے اور بدیاں کسی میں سرایت کر جائیں اس وقت ان بدیوں کو نوچ کر جسم سے باہر نکال پھینکنا بڑا مشکل ہے۔تو اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اب ضروری ہے کہ تمام دنیا میں جماعتیں اس غرض سے اصلاحی کمیٹیاں قائم کریں کہ جو بیماریوں کی پیش بندیاں کرنے والی ہوں۔اس سلسلہ میں ایک مرکزی اصلاح کمیٹی ہر امیر کے تابع کام کرے گی اور ان کو اختیار ہے اور حق ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں مجلس خدام الاحمدیہ مجلس انصاراللہ اور لجنہ اماءاللہ سے وہ پورا پورا فائدہ اُٹھا ئیں۔وہ اگر مناسب سمجھیں تو بعض معاملات کو خدام کی معرفت طے کریں ، بعض کو لجنات کی معرفت طے کریں بعض جگہ تینوں کو بیک وقت کوشش کرنی پڑے گی۔ایک خاندان کا معاملہ ہے وہاں نیک اثر ڈالنے کے لئے خدام کو بھی حرکت دینی ہوگی، انصار کو بھی اور لجنات کو بھی اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اگر آپ یہ کام شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ آپ کے حق میں ضرور پورا ہوگا کہ آپ کی وجہ سے تو میں بچائی جائیں گی۔آپ کی وجہ سے اگر جماعتیں بچائی جائیں گی تو یہی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قوموں کو بچانے کی اہل قرار دی جائیں گی اور جب تک وَاَهْلُهَا مُصْلِحُونَ کا عمل جاری ہے خدا تعالیٰ کے عذاب کی تقدیر نہیں اُترے گی۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ فیصلہ اس رنگ میں ہو جائے کہ کوششیں انتہا تک پہنچ جائیں اور مقابل پر رد عمل بھی انتہا ء تک پہنچ جائے اور پتھر کی طرح لوگ ہوں جو اثر کو قبول نہ کریں تو ایسی صورت میں پھر ہلاکت کی تقدیر کی راہ میں دنیا کی مصلحین کی کوئی جماعت حائل نہیں ہو سکتی۔وہ تقدیر لازماً آتی ہے اور پھر مُصْلِحُونَ سے کیا سلوک ہوتا ہے؟ یہاں اھلھا کا دوسرا معنی نمایاں طور پر ابھر کر کارفرما ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔میں نے یہ ترجمہ کیا تھا کہ اھل کا مطلب صرف رہنے والے نہیں بلکہ رہنے والے کہلانے کا حق رکھنے والے لوگ ہیں جو حقیقت میں اہلیت رکھتے ہیں کہ اس ملک کی طرف منسوب ہوں جن کے اندر زندگی کے آثار اور کردار موجود ہیں جو اہل ملک اور ملک کے باشندہ کہلانے کے مستحق لوگ ہیں۔اس کے متعلق قرآن کریم سے پتا چلتا ہے دوسری آیت میں بہت کھل کر یہ مضمون آیا ہے کہ جب قوموں کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو اس فیصلہ تک