خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 312

خطبات طاہر جلدا 312 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء مسلسل اصلاح میں مصروف رہتے ہیں ان کو ان جگہوں کو وارث بنا دیا جاتا ہے اور یہ قرآن کریم میں بار ہا بہت کھل کر بیان ہوا ہے۔مضمون پس اہلیت کا مضمون وراثت کے مضمون کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو بات بالکل کھل جاتی ہے آپ اصلاح میں مصروف رہیں دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی کریں اور ماحول کی اور غیروں کی اصلاح بھی کریں اور یہی اصلاحی کمیٹیاں نہیں تو کچھ اور اصلاحی کمیٹیاں پہلو بہ پہلو مقرر کی جائیں جو معاشرے کی بُرائیوں کے خلاف علم بلند کرنا شروع کر دیں۔ان میں لکھنے والے نوجوان اخبارات سے رابطے کریں، دانشوروں سے رابطے کریں، ٹیلی ویژن اور ریڈیو اگر ہے، تو ان کو لکھا جائے پروگراموں میں شامل ہوں۔ایسے سیمینار مقرر کئے جائیں جن میں بُرائیوں کے خلاف مذہب کی تمیز کو نظر انداز کرتے ہوئے جہاد کا پروگرام شروع کیا جائے اور یہ جو جہاد ہے یہ لکی سطح پر ہوگا اس میں لیڈرشپ احمدی کے ہاتھ میں ہونی چاہئے کیونکہ حقیقت میں احمدی ہی مفاد پرستی کے چھوٹے چھوٹے خیالات سے بالا ہو کر اصلاح کا کام کر سکتا ہے احمدی Racialism سے پاک ہے، تعصبات سے پاک ہے، مذہبی تعصبات سے پاک ہے ورنہ وہ آنحضور ﷺ کی طرف منسوب ہونے کا حق ہی نہیں رکھتا کیونکہ آنحضور ﷺ کی طرف منسوب ہونے کا حق وہی رکھتا ہے جو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (انبیاء : ۱۰۸) کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرے اور عالمین میں کوئی تفریق ہی نہیں کی گئی۔کالوں کا عالم اور گوروں کا عالم شمالیوں کا عالم اور جنوبیوں کا عالم مشرق اور مغرب کے عالم صلى الله میں کوئی فرق نہیں دکھایا گیا ، مذہبی عالم کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔آنحضور ﷺ اسی طرح عالمین کے لئے رحمت ہیں جس طرح رب العلمین نے آپ کو اپنی ربوبیت کے تابع رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ قرار دیا ہے۔رَبِّ الْعَلَمِینَ کی ربوبیت جس طرح تمام عالموں پر یکساں ہے اور اللہ تعالیٰ سب کی برابر تربیت فرماتا ہے اسی طرح رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کا جو یہ لقب ہے۔یہ کوئی معمولی لقب نہیں ہے اپنی وسعت اور گہرائی میں اس سے بڑا لقب دنیا کے کسی دوسرے نبی کو عطا نہیں ہوا۔پس احمدی کے لئے رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کے مضمون کو سمجھ کر حضرت اقدس محمد مصفا والا اللہ سے تعلق جوڑ نا چاہئے اور جب یہ تعلق قائم ہو جائے گا تو آپ کی نظر بہت بلند ہو جائے گی۔آپ کے حوصلے بہت وسیع ہو جائیں گے۔آپ Racialism کا شکار ہو ہی نہیں سکتے ناممکن ہے کہ آپ