خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 310
خطبات طاہر جلد ۱۱ 310 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء یہ رجحان پیدا ہو رہا تھا کہ جو شخص کسی بُرائی میں اتنا بڑھ جائے کہ اس کے خلاف آپریشن کا ، جراحی کا فیصلہ کرنا پڑے اس کا معاملہ زیر نظر لایا جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ مجبوری ہوگئی ہے اب اس کو کاٹ کر پھینکا جائے۔یہ بات اس آیت کے منافی ہے کاٹ کر پھینکنے کا عمل تو دراصل خدا کی طرف سے فیصلہ ہوتا ہے اور اس وقت ہوتا ہے جب خدا فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قوم بگڑ کر ضائع ہو چکی ہے اس وقت دنیا کی کوئی طاقت اس عمل کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ہمارا کام مُصْلِحُونَ کا ہے۔یعنی یہ کوشش کرتے چلے جانا کہ کوئی بھی کاٹ کر نہ پھینکا جائے تو ہماری کوشش تو اس سے بہت پہلے شروع ہونی چاہئے بجائے اس کے کہ یہ انتظار کرتے رہیں کہ کوئی شخص بیماری کی انتہا تک پہنچ جائے تو کہا جائے کہ بس اب یہ گیا اب اس کو دفن کر دو۔ان کمیٹیوں سے متعلق میرا پروگرام یہ ہے کہ ساری دنیا میں ان کمیٹیوں کو رائج کرنا چاہئے انگلستان میں بھی ، امریکہ میں بھی یورپ کے اور مشرق کے تمام ممالک میں بھی کیونکہ بیرونی اصلاح سے پہلے اندرونی اصلاح کی ضرورت ہے اگر اندرونی اصلاح کا معیار بلند ہوگا تو جماعت بیرونی اصلاح کے لائق ہو گی اگر اندرونی اصلاح کا معیار بلند نہیں ہو گا تو باہر سے بُرائیاں آپ کے اندر سرایت کرنے لگ جائیں گی بجائے اس کے کہ آپ دوسروں کی بُرائیاں دور کریں آپ ان کی بُرائیوں کا شکار ہو جائیں گے اس لئے میں مُصْلِحُونَ کا صرف یہ معانی نہیں سمجھتا کہ غیروں کی اصلاح کرو۔مُصْلِحُونَ کا جو عمل ہے وہ دونوں صورتوں میں جاری وساری ہے دونوں ہی جہاد ہیں۔تربیت کا جہاد بھی اور تبلیغ کا جہاد بھی اور تبلیغ کے جہاد کا معیار براہ راست تربیت کے جہاد کے معیار سے متعلق ہے۔جتنا تربیت کا جہاد بلند معیار کا ہوگا اتنا ہی تبلیغ کا معیار از خود بلند ہوتا چلا جائے گا اس لئے ہر ملک میں نظام جماعت کی طرف سے اور طرز کی اصلاحی کمیٹیاں بننی چاہئیں۔یعنی اس بات کا انتظار کرنے والی نہیں کہ جیسے مکڑی جالے میں بیٹھ کر انتظار کرتی ہے کہ کوئی بے وقوف مکھی پھنسے تو اس کے مارنے کا انتظام کیا جائے صرف ایسے بیماروں کو ان کی طرف منتقل نہ کیا جائے کہ جن کے متعلق فیصلہ ہو کہ ان کو اب کیا سزادی جائے بلکہ کمیٹی کا فرض ہو کہ وہ یہ نظر رکھے کہ آثار کے لحاظ سے کس خاندان میں کمزوریاں آ رہی ہیں۔کن کی بچیاں بے پرواہ ہوتی چلی جارہی ہیں، کن کے لڑ کے باہر کی طرف رُخ کر چکے ہیں اور جماعت سے محبت کی بجائے ان کا تعلق رفتہ رفتہ کٹ کر