خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 283
خطبات طاہر جلداا 283 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۹۲ء بعض لوگ ہیں انہوں نے نیکی کا ایک چھوٹا سا عہد کیا ہوتا ہے، ایک وقت میں ایک نیکی کا عہد کر لیتے ہیں اور پھر ان کا انجام ولایت پر ہوتا ہے، ابرار میں موت ہوتی ہے۔ یہ مضمون ہے جو انفرادی حیثیت سے صادق آتا ہے اور بالکل سچا اور قطعی مضمون ۔ سمون ہے۔ جو شخص خدا کی خاطر نیکی کا عہد کرے اور نیکی پر قائم ہو جائے خواہ وہ چھوٹی ہی نیکی کیوں نہ ہو، ابتداء میں نیکی کا ایک معمولی حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس میں نشو ونما کی طاقت ہوتی ہے اور وہ ضرور رفتہ رفتہ انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے چنانچہ بہت سے اولیاء اللہ کے حالات کا آپ مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ ایک دن یا ایک رات میں آنا فانا ولی نہیں بنائے گئے تھے۔ انہوں نے سچے دل سے بعض باتوں سے توبہ کی اور بعض نیکیاں اختیار کیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ اُن نیکیوں کو اتنا بڑھا دیا جیسے زرخیز زمین میں بیج پڑتا ہے اور بعض دفعہ سینکڑوں گنا بڑھ کر وہ دنیا کے لئے فوائد کا موجب بن جاتا ہے۔ پس نیک آدمی کی ذات میں نیکی پرورش پاتی ہے، یہ اس کا ایک مطلب ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ قومی طور پر اگر آپ نیک ہوں گے اور سچے نیک ہوں گے تو غیر سوسائٹی پر آپ کو غلبہ نصیب ہوگا اور ضرور ہو گا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سچے نیکوں پر بدوں کو غلبہ عطا ہو جائے اور یہ ہوگا ہوہی پر عطاہو بات ہم دنیا میں ہر جگہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ ہر قسم کے مخالف ات میں بھی ترقی پذیر ہے اور مخالفت خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، معمولی ہو یا شدید ہو یہ جماعت میں برکت ہی پیدا کر رہی ہے۔ پس کتنی سچی بات ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ لیکن اس راز کو اچھی طرح پلے باندھ لیں کہ یہ حسنہ وہی ہے جو خدا سے تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہو۔ دنیاوی عادت کے طور پر نہ ہو ، دکھاوے کے طور پر نہ ہو، اقتصادی فوائد کی غرض سے نہ ہو۔ جس طرح بعض تو میں لمبا اقتصادی تجربہ رکھتی ہیں تو تجارتی معاملات میں بالکل صاف ہوتی ہیں اور بعض نادان سمجھتے ہیں بڑی سچی قومیں ہیں حالانکہ جہاں ان کی تجارت کو حقیقی معنوں میں خطرہ درپیش ہو وہاں یہ سب نیکیاں ٹوٹ پھوٹ کر بالکل بیکار اور ضائع ہو جاتی ہیں اور بکھر جاتی ہیں ۔ وہ قائم نہیں رہ سکتیں، وہ وفا کرنے والی نیکیاں نہیں ہوتیں۔ وفا کرنے والی نیکی وہی ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو اور خدا کی عبادت کے نتیجہ میں وہ پرورش پائیں ۔ ایسی نیکی ہر قسم کے مخالفانہ حالات میں بھی زندہ رہنے اور باقی رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے میں بار ہا جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں کہ قرآن کریم نے نیکی کی حالات