خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۱۱ 282 خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۹۲ء تقدیر یہ ہے کہ وہ ضرور غالب آئیں گی۔پس اگر نیکیاں غالب نہ رہیں اور مغلوب ہو جا ئیں تو یا درکھیں وہ نیکیاں نہیں ہیں ان کا جو چاہیں نام رکھ لیں نیکیاں مغلوب نہیں ہوا کرتیں۔وہ اُس دور کی باتیں ہیں جبکہ لوگ اپنے دین کو بدل چکے ہوتے ہیں جبکہ تعلق باللہ کی بجائے ریا کاری شروع ہو چکی ہوتی ہے، جبکہ وحدانیت کی بجائے انا نیت جگہ لے لیتی ہے اور انسان نفس پرست ہو جاتا ہے اس وقت آپ کو جو عبادتیں دکھائی دیتی ہیں وہ بالکل کھو کھلی اور بے معنی عبادتیں ہوتی ہیں اور وہی زمانہ ہے جبکہ بدیاں نیکیوں پر جو بظاہر نیکیاں ہوتی ہیں غالب آنے لگتی ہیں چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو بار ہا مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے اس کے بعد ایسے لوگ ان کے وارث بن گئے جو حقیقی طور پر نیک نہیں رہے تھے ، وہ بدیوں کے شکار ہو چکے تھے پس وہ نسل جو نیکیوں پر قائم ہو اور کچی نیکیوں پر قائم ہو وہ مغلوب نہیں ہوا کرتی۔تین صدیوں تک ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ نیکیاں دنیا پر غالب آتی چلی گئی ہیں۔معاشرہ میں بُرائیاں بھی آئیں تو بہت محدود حصہ میں اور بالعموم وہ معاشرہ نیکی کا معاشرہ تھا جہاں نیکی پنپتی ہے اور نیکی کے پنپنے کے نتیجہ میں قوموں کو جو دوسری سعادتیں نصیب ہوا کرتی ہیں وہ ساری نصیب ہوئیں۔جب نیکی آتی ہے تو یہ صرف روحانی طور پر کسی قوم کو فضیلت نہیں بخشتی بلکہ دنیاوی فضیلتوں کے پیغام بھی ساتھ لاتی ہے۔وہ مقصود نہیں ہوتے لیکن نیکی کے اندر ایک بنیادی صفت ہے کہ نیک آدمی غالب آنے کے لئے بنایا گیا اور اس کا غلبہ صرف مذہب کے دائرے میں محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ غلبہ ایک عمومی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور قوم بحیثیت قوم غالب آجاتی ہے۔مذہب کی تاریخ میں آپ کو یہ بات ہر جگہ بار بار دہرائی جاتی دکھائی دے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا۔پس یہ بات اللہ تعالیٰ نے یاد کروا دی ہے کہ تم راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنا لیکن اس کے لئے ایک کسوٹی بھی ہم تمہیں دیتے ہیں اگر تم سچے عبادت گزار ہوئے ایسے عبادت گزار ہوئے کہ تمہیں ولایت نصیب ہو تو اس کی علامت یہ ہوگی کہ تمہاری نیکیاں بدیوں پر غالب آئیں گی اور یہ مضمون دو طرح سے ظاہر ہوگا۔ایک یہ جو شخص بچے معنوں میں ایک نیکی اختیار کرتا ہے اس کی نیکی پرورش پاتی ہے، بڑھتی ہے، پھولتی اور پھلتی ہے اور رفتہ رفتہ گناہوں کو سر کا سرکا کر باہر نکالنا شروع کر دیتی ہے۔