خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد ۱۱ 284 خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۹۲ء تعریف میں باقی ہونا داخل فرما دیا۔صالحات وہی ہیں جو باقیات بھی ہیں۔کتنی عظیم کتاب ہے، کیسا فصیح و بلیغ کلام ہے؟ ایک جگہ جس بات کا ذکر فرمایا گیا ہے لازماً ہر جگہ اس قرآن میں جو تئیس سال میں نازل ہوا ہے۔اسی مضمون کو دہرایا گیا ہے اور اس کو تقویت دی گئی ہے اور مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ہے۔سارے قرآن کریم میں ایک بھی تضاد آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔پس إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ کا باقیات ہونا یہ دراصل ایک ہی مضمون کی دو شکلیں ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو جو مقابلے در پیش ہیں ان کی باقی باتیں میں انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا کیونکہ جتنی آیات تلاوت کی گئی ہیں وہ زیادہ ہیں اور تشریح کے ساتھ بیان کرنے کا وقت تھوڑا تھا اس لئے میں اس آیت پر اس خطبہ کو ختم کروں گا۔یذْهِبْنَ السَّيِّاتِ کے مضمون کو سمجھیں اور اس میں ایک گہرا راز ہے چنانچہ قرآن کریم نے متنبہ فرمایا ہے کہ ذلِكَ ذِكْرَى لِلذَّكِرِينَ یاد رکھو! کوئی معمولی بات نہیں ہے، یونہی کوئی محاورہ نہیں ہے جس طرح بعض دانشور محاورے گھڑ دیا کرتے ہیں اور وہ بڑے ہر دلعزیز بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ذکری لِلہ کرین جو اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ ہیں، جو گہری فہم رکھنے والے لوگ ہیں ان کے لئے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔پس آپ کو غالب آنے کا راز سمجھایا گیا ہے۔ایسا راز جو اتنا قطعی اور قوی ہے جو نا کام نہیں ہوگا اور کبھی آپ سے بے وفائی نہیں کرے گا۔آپ کی تبلیغ کی کامیابی کا ایک ایسا راز آپ کو بتلا دیا گیا کہ وہ بے شک آپ کو براہ راست دکھائی نہ دے کہ تبلیغ میں مد ہو گا لیکن قرآن کریم کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔آپ اپنی ذات میں حسنات کو قائم فرمائیں اور قائم کرنے کا طریق یہ ہے کہ عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنا ذاتی تعلق بڑھا ئیں۔دن کو بھی عبادت کریں، رات کو بھی عبادت کریں اور ذکری سے نصیحت حاصل کریں۔ذکری خدا کے ذکر کو بھی کہتے ہیں۔ذکری تاریخ میں آنے والی قوموں کے حالات کو بھی کہتے ہیں جو سبق آموز حالات ہوں تو فرمایا کہ تم قوموں کی تاریخ کا ، ان کے عروج وزوال کا مطالعہ کیا کرو اور مذہبی نقطہ نگاہ سے تم ہمیشہ یہ بات دیکھو گے جب تو میں خدا سے دور ہٹی ہیں تو ہلاک کر دی گئی ہیں اور دنیاوی طاقت ان کو بچا نہیں سکی اور جن قوموں نے اپنے معاشرے کو غیر معاشرے سے مرعوب ہو کر چھوڑ دیا ہے اور وہ مجھی ہیں کہ یہ زیادہ ترقی یافتہ لوگ ہیں۔ہمیں ان جیسی عادتیں اختیار کرنی چاہئیں۔ان کے ساتھ ڈانس کریں ، ان کے ساتھ شرابیں پئیں، ان