خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد ۱۱ 281 خطبہ جمعہ ۱۷ را پریل ۱۹۹۲ء کرتی ہیں۔اسی نیکی اور بدی کے مقابلے کی تاریخ کو اب ایک اور طرح سے دیکھیں تو ایک دم تبدیل شدہ منظر آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے۔انسان کے لئے بدی کرنا آسان کام ہے اور یہ پہاڑ سے نیچے اتر نے والی بات ہے اور نیکی کرنا ایک مشکل کام ہے اور یہ پہاڑ پر چڑھنے والی بات ہے اور قرآن کریم نے اسی مثال کے طور پر نیکی کو بیان فرمایا۔جب بدیاں پھیلتی ہیں۔میں یہ بعد میں بتاؤں گا کہ اس وقت حسنات کی کیفیت کیا ہوتی ہے تو ایک آسان کام ہے اور ہر قسم کے طبعی محرکات اور عوامل بدیوں کی تائید میں حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔اپنی نیکی کو سنبھال کر رکھنا بڑا مشکل کام ہے۔اور جب بدیاں زور مارتی ہیں تو ایک دفعہ انسان نیچے جانا شروع ہو تو وہ گرتا چلا جاتا ہے اس کے مقابل پر بدیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنا یہ ایک بہت بڑی قوت چاہتا ہے اور اگر یہ ہو تو یہ مجزہ ہے اور ہر نبی کے وقت یہی ہوا کرتا ہے اور سب سے زیادہ شان کے ساتھ یہ مجزہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہوا۔جہاں خدا نے ایک دفعہ یہ اعلان فرمایا کہ اے محمد ﷺ ہم تجھے ایسی تاریک رات میں یعنی اس لیلۃ القدر میں جو زمانے کی لیلۃ القدر ہے بھیج رہے ہیں کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ساری دنیا میں ہر طرف خشکی ہو یا تری ہو، مذہبی دنیا ہو یا غیر مذہبی فساد پھیل چکا اور غالب آ گیا ہے ظَهَرَ کا مطلب ہے چڑھ دوڑا ہے۔دنیا پر جس طرح موجیں چڑھ جایا کرتی ہیں اس طرح ہر چیز پر فساد چڑھ گیا ہے ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا ہے إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ یاد رکھو کہ جو نیکیاں ہم نے تجھے بخشی ہیں ان نیکیوں میں یہ طاقت ہے کہ بدیوں پر غالب آ جائیں اور وہ نیکیاں جن کا خدا کی ذات سے گہرا تعلق ہوتا ہے، جو عبادت کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہیں، جو ولایت کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہیں وہ نیکیاں کبھی مغلوب نہیں ہوا کرتیں اور ہر نبی کے زمانے میں تھوڑایا بہت یہ معجزہ رونما ہوتا آپ دیکھیں گے کہ کامل بدی میں سے نیکی نکلنی شروع ہوتی ہے۔راتوں سے دن کی شعاعیں پھوٹتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سعید روحوں کی ایک درخشنده صبح نمودار ہو جایا کرتی ہے۔کہیں تھوڑی کہیں زیادہ مگر تھوڑی بھی ہو تو ایک عظیم فتح ہے۔حسنات نے یہ ثابت کر دیا کہ ہر طاقت اُن کے مقابلے میں جتھا کر لے اور انسانی فطرت ان طاقتوں کی تائید میں کھڑی ہو تب بھی جو سچی نیکیاں ہیں ان کو غالب آنے کی استطاعت ہے اور خدا تعالیٰ کی