خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 277

خطبات طاہر جلد ۱۱ 277 خطبہ جمعہ ۷ ارا پریل ۱۹۹۲ء گا۔فرمایا ہرگز ان کے جیسا نہیں بنا کیونکہ ظالم تمہارا کیسے ہوسکتا ہے جو تم سے نفرت کا سلوک کر رہا ہے اور ظلم کا سلوک کر رہا ہے وہ تمہارا ہو ہی نہیں سکتا اور یا درکھو دنیا میں کوئی بھی تمہارا نہیں ہے۔جب تم خدا کے ہو گئے تو سب تمہارے دشمن ہو چکے ہیں۔اسی لئے میں آپ کو بتارہا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ جہاں بھی جماعت کی ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے لا ز ما آپ پر ظلم ہوگا۔قرآن کریم یہ فرمارہا ہے اور قرآن کریم کی ہر بات لا ز ما او قطعی طور پر سچی ہوتی ہے۔تو یہ ظلم ایک فطری ظلم کی کیفیت کا نام ہے۔جب بھی کوئی خدا والا بنتا ہے اور خدائی جماعتیں دنیا میں قائم ہوتی ہیں تو ان کے خلاف ساری دنیا کا ظلم ایک لازمی نتیجہ ہے خواہ وہ پہلے ظاہر ہو یا بعد میں ظاہر ہولیکن فطرتاً اہلیت کے لحاظ سے وہ ظلم ان سب قوموں میں موجود ہے اور قرآن کریم نے متنبہ فرمایا کہ مَالَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ یا د رکھو خدا کے سوا کوئی تمہارا ولی نہیں ہے، کوئی تمہارا دوست نہیں ہے اس کو چھوڑ دو گے تو ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ پھر کوئی تمہاری مدد نہیں کرے گا خواہ تم ظلم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا نہ کرو اس سے قطع نظر یہ ظالم تمہارے کبھی نہیں ہو سکیں گے اور ظالموں کا یہ رویہ ہے۔وہ ایک دفعہ اپنے ساتھ شامل کرنے کے بعد دو چار دن ہی دیکھیں چڑھایا کرتے ہیں، دو چار دن ہی پھولوں کے ہار پہناتے ہیں پھر کبھی بھی ان کے نہیں رہتے ، ان کی مصیبتوں میں ساتھ شامل نہیں ہوتے۔کبھی ظالموں کو آپ اس طرح نہیں دیکھیں گے کہ کسی کو مرتد کیا اور پھر اس کے لئے در ددل سے دعائیں ہو رہی ہیں اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اس کے اخلاق کی اصلاح کی کوشش کی جارہی ہے۔ارتداد کی ساری تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں ایک بھی جگہ آپ کواستثناء دکھائی نہیں دے گا۔کتنا سچا کلام ہے۔فرمایا ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، ساتھ شامل کر کے خدا سے تعلق کاٹ دیں گے لیکن تمہارے نہیں بن سکیں گے۔پس ایک تو یہ ہے کہ ان جیسا نہیں بننا اور دوسرا یہ فرمایا کہ اس میں صرف مذہب کی تبدیلی مراد نہیں بلکہ عادات کی تبدیلی بھی مراد ہے۔مشرق میں اگر مذہب کی تبدیلی پر زور دیا جا رہا ہے تو مغرب میں بنیادی اسلامی معاشرے کو چھوڑ کر غیر اسلامی معاشرہ اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے ملکوں میں بسنا ہے، ہمارے اندر شامل ہونا ہے تو تمہیں اپنے معاشرے کو ترک کرنا ہو گا اور ہمارے معاشرے کو اپنا نا ہوگا۔اب یہ وہ ایسا مقام ہے جہاں ایک مومن کا کام