خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد ۱۱ 244 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء ان سے بہت خوش تھیں۔ایک تو وہ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے ان کے مرض کو بجھتی تھیں۔دوسرے ان کا مزاج اتنا دھیما، میٹھا، محبت کرنے والا ہے کہ بہت ہی پیار کے ساتھ ان کو سمجھاتی تھیں۔چنانچہ ان سے بہت خوش رہتی تھیں کئی دفعہ قدوس مجھے بتاتی تھیں کہ آپ پہلے آتے تو حیران ہو جاتے کہ کتنے اچھے موڈ میں مجھ سے باتیں کرتی رہیں اور اپنی پرانی باتیں بتاتی رہیں جو سفر آپ کے ساتھ کئے ، یہ وہ سب قصے سناتی رہیں۔ان تین خواتین کو تو بہت ہی غیر معمولی خدمت کی توفیق ملی ہے۔اس کے علاوہ صبیح لون صاحبہ ہیں، نعیمہ کھوکھر صاحبہ ہیں اور سب کو جہاں جہاں موقع ملا خدمت تو انہوں نے کی لیکن مجبوری کی وجہ سے ان کو زیادہ موقع دیا نہیں جاسکا۔باہر سے جو آئے ہیں ان کو پہلے تو میں بہت روکتا رہا کیونکہ میری طبیعت پر بوجھ پڑتا تھا کہ لوگ آجائیں اور خاص طور پر ان کو اپنی ذہانت کی وجہ سے فوڑ اپتا لگ جاتا تھا کہ کوئی بات ہوگئی ہے۔جو لوگ آرہے ہیں مگر بہر حال بہنوں بھائیوں کا حق ہے میں اس کو روک نہیں سکتا تھا۔چنانچہ بہت مشکل سے ذہنی طور پر تیار کیا اور کہا کہ میں نے روک تو دیا ہے کہ کیا ضرورت ہے آنے کی۔وہ بہت اصرار کر رہے ہیں کہ ہمارا دل ملنے کو چاہتا ہے آپ کیوں روکتے ہیں؟ تو کیا پھر میں اجازت دے دوں ؟ شروع میں تو کہتی تھیں کہ اجازت نہ دو لیکن میرے بار بار مختلف طریق سے کہنے پر آخر آمادہ ہو گئیں تو عزیزہ شاہدہ نسیم ان کے بھائی نسیم کی بیوی اور نسیم دونوں آ گئے صبیحہ آگئیں جو ان کی بڑی بہن ہیں۔فوزیہ بھی چند دن ہوئے پہنچ گئیں میری بہنوں نے بہت زور دیا مگر میں نے کہا کہ نہیں مناسب نہیں ہے۔آپ لوگ ٹھہریں، اپنی بہنوں کی تو اور بات ہے۔میری بہنیں بھی پہنچنی شروع ہو گئیں تو ان کو خطرہ ہوگا کہ معاملہ بہت زیادہ سنگین ہو گیا ہے لیکن امتہ الجمیل اور باجی امتہ القیوم جو میری بڑی باجی ہیں اور بھائی صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی بیگم ہیں یہ یہاں پہنچ گئی تھیں۔کل ہی پہنچیں اور ملاقات ہوگئی دیکھ لیا یہ ان کا عرصہ حیات اور بیماری کا دور تھا۔بعض دفعہ تسلی کے لئے میں جو باتیں ڈھونڈتا تھا۔ان میں ایک یہ بات بھی تھی جس کو بڑے ہی جذ بہ تشکر کے ساتھ سنا کرتی تھیں میں نے کہا دیکھو! آج دنیا میں ایک مریض ہے جس کے لئے اتنی دعائیں ہو رہی ہیں کہ خدا کی قسم ساری دنیا میں کوئی مریض ایسا نہیں جس کے لئے اتنی دعائیں ہو رہی ہوں۔مشرق سے مغرب تک دنیا ہے میں نے کہا کہ مجھے خط ملتے ہیں تم اندازہ نہیں کر سکتی کہ کتنے