خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 245

خطبات طاہر جلدا 245 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء نڑپانے والے خط ہیں۔آدمی حیران ہو جاتا ہے کالے گورے ہر رنگ کے لوگ دور دراز ملکوں میں اس قدر بے قرار ہیں تو خدا نے تمہیں یہ سعادت نصیب کی ہے کہاں سے کہاں تمہیں پہنچادیا شکر کرو مجھے کہا کہ آپ لاکھ لاکھ شکر کریں۔میں نے کہا کہ ہاں میں تو لاکھ لاکھ شکر کرتا ہوں تو آخری دور میں دعاؤں کی طرف ، نیک باتوں کی طرف ، ذکر الہی کی طرف بہت ہی توجہ رہی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخری دنوں میں پوری طرح بغیر کسی تردد کے بغیر کسی استثناء کے کامل طور پر راضی برضا ہو چکی تھیں اور اپنے آخری وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔رات جس وقت دم تو ڑا ہے کوئی تکلیف نہیں تھی۔باتیں کر رہی تھیں اور یہی اللہ سے میری بہت زیادہ دعا تھی کہ اے خدا! آرام سے اُٹھانا بشر کی نرس جو ساتھ تھیں انہوں نے کہا کہ باتیں کر رہی تھیں کوئی تکلیف نہیں تھی بڑے سکون میں تھیں تو ایک بات کے بعد دوسری بات نہیں آئی میں نے دیکھا تو گھبرا کر باہر گئی ڈاکٹر نے آکر دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ تو دم توڑ چکی ہے۔اس طرح خدا نے اس التجا کو قبول فرمالیا اور بڑے سکون کے ساتھ رخصت ہوئیں۔ان کی نماز جنازہ انشاء اللہ کل اسلام آباد میں ظہر کی نماز کے بعد ہوگی لیکن اس نماز جنازہ کے ساتھ میں ایک نماز جنازہ غائب بھی شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ ایک ایسی خاتون کی نماز جنازہ ہے جن کے متعلق ایک خاص بات محرک ہے۔ہمارے چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ جو انڈونیشیا میں مستقل طور پر مبلغ فائز ہوئے ہیں ان کی بیگم فاطمہ بیگم صاحبہ کو بھی بی بی والا کینسر تھا۔یعنی پتے کا کینسر جو کینسر میں سب سے زیادہ خطر ناک سمجھا جاتا ہے۔یہ بات پیش نظر رکھیں اب جو اصل محرک بناوہ ایک اور بات ہے وہ یہ ہے کہ حضرت بھائی جان کی بیگم طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ نے مجھے ایک خواب لکھی اور لکھا کہ میں اس کی وجہ سے بہت پریشان ہوں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث اس دنیا میں کہیں مجھ سے ناراض نہ ہوں کہتی ہیں کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ وہ آتے ہیں اور میری طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور ایک معمولی سی عام سی لڑکی ہے اس کے ساتھ شادی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شادی کر کے اس کو لے جاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام دوست محمد ہے جب میں نے یہ رویا پڑھی تو اسی وقت میں نے آفاقی نظر ڈال کر دیکھا کہ خدا کے نزدیک کون ایسا ہے کہ جس کا اتنا مرتبہ کہ عالم بالا میں خلیفہ ہو اس کے استقبال کے لئے تیاری کرلے اور ویسے دیکھنے میں وہ معمولی سی انسان ہو۔میں نے ان کو تعبیر تو اسی وقت لکھ