خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 243
خطبات طاہر جلد ۱۱ 243 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء نہیں بتایا۔میں نے کہا کہ میں جماعتی کاموں کو اور گھر کے معاملات کو الگ الگ رکھتا ہوں اور میں نہیں پسند کرتا کہ مجھ پر جو جماعتی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں میں ان کا گھر والوں سے ذکر کروں اس طرح پھر گھروں کے دخل شروع ہو جاتے ہیں اور پھر تبصرے اور بہت سی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اس طرح میرے کاموں پر غلط اثر پڑنے کا خطرہ ہے تو اس بات کو ہمیشہ قبول کئے رکھا اور وفات کے دن تک کبھی بھی جماعتی کاموں میں دخل اندازی نہیں کی نہ کوشش کی نہ مجھ سے جستجو کی نہ مشورے دئے اگر مشورے دئے ہیں تو معمولی مثلاً ا نمبر انگلستان میں مسجد فضل لندن کے پاس جماعت کے گیسٹ ہاؤس کو ٹھیک کرنا ہے، مہمان آتے ہیں اور وہ بہت گندی حالت میں ہیں۔وہاں جا کر کام بھی کیا لیکن رفتہ رفتہ جماعت کی خواتین سے تعلق بہت بڑھ گیا اور خاص طور پر ہجرت کے بعد بہت وسیع تعلق ہوا۔آسٹریلیا میں نجی میں، سنگاپور میں، پھر یورپ کے Continent کے سب ممالک میں، کینیڈا میں، امریکہ میں جہاں جہاں گئیں بہت ہی انکساری کے ساتھ خواتین سے ملتی تھیں اور یہ ایک ایسی خوبی ہے جوفطر تا ودیعت ہوئی تھی اس میں کوئی تکلف نہیں تھا کبھی بھی اپنے آپ کو کسی معنوں میں بڑا نہیں سمجھا اور ہر ایک سے برابر محبت سے پیار سے ملتی تھیں۔خاص طور پر انگلستان کی خواتین سے تو بہت ہی تعلق تھا اور کہا کرتی تھیں کہ ان کے بہت ہی احسانات ہیں۔بہت خدمت کی ہے لیکن یہ تکلیف تھی کہ میں ان سے بیماری کی حالت میں نہیں مل سکتی کیا کروں؟ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ اس حالت میں آکر لوگ مجھے دیکھیں۔اس لئے میں اچھی ہوں گی تو پھر ملوں گی پیغام دے دو کہ میرے دل میں قدر ہے میں احسان فراموش نہیں ہوں، میں جوں روکتی ہوں وہ میری مجبوری ہے چنانچہ میں نے جس حد تک بھی مجھ سے ہو سکا لجنہ والیوں کو پیغام بھیجے کہ بی بی کے متعلق وہ غلط تصور نہ کریں۔نعوذ بالله من ذلک۔ایسا آپ سے عدم تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ تعلق کی وجہ سے ہے اور اور بہت چند ایک تھے جن کے ساتھ اتنی بے تکلفی تھی یا بیماری کے دوران ہو گئی۔جن کو آپ اپنے ساتھ برداشت کر لیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ انہی کے سپر د خدمت کرو۔ان میں ایک کیپٹن بشری نرس ، سردار رفیق صاحب کی بیگم ہیں انہوں نے بہت خدمت کی ہے۔ایک لئیقہ احمد کرائیڈن کی ہیں انہوں نے دن رات خدمت کی ان دونوں کی خدمت بہت سراہتی تھیں۔اس کے علاوہ اور بھی ایسی خواتین تھیں جن کو خدمت کا موقعہ ملا ہے امتہ القدوس ایاز جو ڈاکٹری کے چوتھے سال میں پڑھ رہی ہیں اور افتخار ایاز صاحب کی بیٹی ہیں