خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 191
خطبات طاہر جلدا 191 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء خدائی صفات تو بڑھ ہی نہیں سکتیں سوائے اس کے کہ اندرونی طور پر تربیت کے ذریعہ بڑھیں لیکن میں تربیت کا مضمون نہیں بلکہ میں دعوت الی اللہ کا مضمون بیان کر رہا ہوں اس میں جو تربیت کا پہلو ہے وہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جس کو آپ مسلمان بنا ئیں جس کو احمدیت کی طرف بلائیں اس نیت سے بلائیں کہ اس کے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو وہ پہلے سے بہتر انسان بنے اور اس کے لئے پھر کوشش کرنی ہوگی۔پس وہ دعوت الی اللہ کرنے والے جو دلائل کے ذریعہ مد مقابل کو مغلوب کر دیتے ہیں اور اگر اس کی جماعت میں یا اسلام میں بھرتی کرا بھی لیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ میرا مقصد پورا ہو گیا وہ دھوکے میں ہیں۔ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو لازماً دیکھنا ہو گا جس کو میں احمدی مسلمان بنانے میں کامیاب ہوا ہوں اس کے اندر پہلے کے مقابل پر کیا پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں اور آئندہ پاک تبدیلیوں کے رجحان کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں میں کیا کر سکتا ہوں۔پس ہر داعی الی اللہ کو اگر وہ خدا کی خاطر دعوت دیتا ہے دعوت میں کامیاب ہوتے ہی پھر اس کا مربی بننا ضرور ہو گا اس کے بغیر اس کی نیت کی صفائی اور پاکیزگی ثابت نہیں ہو سکتی۔پس جولوگ بنا بنا کر پھینکے جاتے ہیں ان کا تعداد بڑھنے کا رجحان ظاہر ہو جاتا ہے۔جو لوگ بنا کر پھر ان کی پرورش کرتے ہیں وہ خالصہ اللہ کے لئے بناتے ہیں وہ بچے داعی الی اللہ ہیں۔اب مائیں اگر بچے پیدا کر کے پھینکتی چلی جائیں تو ان کو کون سنبھالے گا ایک طرف سے وہ زندگی پارہے ہوں گے دوسری طرف سے موت کے منہ میں دھکیلے جارہے ہوں گے۔پس ہر داعی الی اللہ کو اس کا مربی بننا ہو گا جس کو وہ دعوت دیتا ہے اور اس پہلو سے اس کے وقت پر بہت بڑے تقاضے ہوں گے۔صرف تبلیغ کا تقاضا نہیں بلکہ تربیت کا تقاضا بھی اس کے وقت پر قائم ہوگا۔پس اس پہلو سے جب وہ منصوبہ بناتا ہے تو ان باتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔وہ بزرگ صحابہ جنہوں نے سو سو بیعتیں کروائیں یا ہزار ہزار بیعتیں کروائی ہیں ان کے اندر نقش پیدا کرنے کی صلاحیتیں بہت تھیں اور یہ ایک فرضی بات نہیں ہے بلکہ میں ان صحابہ کو ان میں سے بہتوں کو ذاتی طور پر جانتا تھا اور ان کے بنائے ہوئے احمدیوں سے ان کی وفات کے بعد بھی بہت دیر تک ملتا رہا ہوں اور میں نے یہ بات مشاہدہ کی ہے کہ بعض دا عین الی اللہ ایسے تھے جن کو پھل لگتا تھا لیکن پھل کے ساتھ وہ اپنی صلاحیت بھی اس پھل میں منتقل کیا کرتے تھے جیسے وہ روحانی وجود تھے ویسی روحانیت