خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 192

خطبات طاہر جلدا 192 خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۹۲ء بھی اس پھل کو عطا کیا کرتے تھے۔جیسے ان کی ذات میں شیرینی پائی جاتی تھی ویسے وہ شیرینی اس پھل کو بھی عطا کر دیا کرتے تھے۔یہ تو طاقت نہیں تھی کہ جس کو احمدی بنا ئیں ہر وقت اس کی تربیت میں لگیں رہیں لیکن میں نے اس مضمون پر غور کر کے جو اس کا حل معلوم کیا ہے وہ یہ تھا کہ وہ احمدی بنتے ہی اس وقت تھے جب ان کی نیکی کا اثر قبول کر چکے ہوتے تھے اور یہ صیح احمدی بنانے کا اصل راز ہے۔آپ کسی شخص میں اپنی نیکی کے اثرات اپنی پاک صلاحیتوں کو سرایت کر دیں یہاں تک کہ نام کے لحاظ سے وہ جو چاہے رہے عملا وہ آپ کے اندر جذب ہورہا ہو اور آپ کی نیکیاں اختیار کر رہا ہو۔ایسے شخص پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا تو صرف نام کا ہی فرق ہے میں تو بیچ میں سے آپ کا ہی ہوں اور بہت سے اچھے دعوت الی اللہ کرنے والے جب اپنے بنائے ہوئے احمدیوں کو لے کر آتے ہیں تو بسا اوقات میں یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایمان لانے سے پہلے ان کی تربیت ہو چکی ہوتی ہے اور دراصل تربیت ہے جو ان کو اس فیصلے کی طاقت بخشتی ہے کہ میں اب وہاں کا نہیں رہا یہاں کا ہو چکا ہوں۔پس اس رنگ میں آپ کو تبلیغ کرنی ہوگی کہ تربیت کے تقاضے بھی ساتھ ساتھ پورے ہوں اور اگر وہ پورے نہیں ہوئے تو جس طرح مرغی کو اپنے چوزوں کو کچھ عرصے تک اپنے پروں میں رکھنا پڑتا ہے جیسے ماں کو کچھ عرصہ تک اپنے نوزائیدہ بچوں کے اوپر اپنی رحمت کا سایہ دراز رکھنا پڑتا ہے ان کی ساری ضرورتیں پوری کرنی پڑتی ہیں اس طرح آپ کو بھی نو مبائعین کی کسی حد تک روحانی، بعض جسمانی ضرورتیں بھی پوری کرنی ہوں گی۔ان سب باتوں کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بنائیں گے تو وہ حقیقی منصو بہ ہوگا لیکن اگر ان کو بھلا کر بنائیں گے تو آپ چاہے ہزار کہیں ، چاہے دس ہزار کہیں فرضی اور غیر حقیقی باتیں ہیں۔پس تجربے کے ساتھ ساتھ آپ کے منصوبے کی اصلیت ظاہر ہونی شروع ہوگی لیکن بنانا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔نیت خالص ہو تو اللہ تعالیٰ اس نیت کو پھل لگاتا ہے اور طاقتوں کو بھی بڑھا دیتا ہے۔پس وہ شخص جس کی نیت خالص ہو اور پاک ہو آغاز میں اگر اس کو کچھ پھل نہ بھی ملے لیکن وہ دعائیں کرتا رہے اور حکمت کے ساتھ کہ جیسا میں بیان کر رہا ہوں تفصیلی طور پر تمام تبلیغی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آگے بڑھے گا تو اس سفر کے دوران اس کی اپنی اتنی تربیت ہوگی ایک سال دو سال تین سال کے اندر اندر خدا کے فضل سے وہ بہت ہی باشمر درخت بن جائے گا اور جب وہ باشمر درخت بن جائے تو پھر خدا کی حفاظت میں آجاتا ہے اور کوئی نہیں جو اس پر ہاتھ ڈال سکے۔اس