خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 189

خطبات طاہر جلدا 189 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء سب سے بڑی روک یہی رجحان ہے۔جب انبیاء دعوای کرتے ہیں۔ایک سچائی کی طرف بلاتے ہیں تو مد مقابل جتنی قو تیں ہیں وہ اپنے پیروکاروں کو اپنی سرزمین کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زمین ہماری راج دھانی پر حملہ ہو گیا ہے اور ان میں سے ایک بھی ٹوٹ کر خدا کے بھیجے ہوئے کی طرف جاتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اتنی زمین ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے اس طریق کار کو اسی اصطلاح میں بیان فرما کر اُن کو دکھا دیا کہ تم زمینوں کے طور پر دیکھتے ہو تو یاد رکھو کہ تمہاری زمینیں کم ہوں گی اور محمد مصطفی ﷺ کی زمینیں بڑھیں گی۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ روز بروز تمہاری زمین کو کم کرتا چلا جا رہا ہے۔پس اگر زمینیں ہی ہیں تو تمہاری زمینیں تمہاری نہیں رہیں گی اور تمہارے ہاتھ سے نکلنے والی ہیں مگر یہ نہیں فرمایا کہ محمد مصطفی ﷺ اپنی زمین بڑھا رہے ہیں اس لئے کہ آپ ان کو اپنی زمین کے طور پر دیکھتے ہی نہیں تھے۔آپ تو سچائی کو دیکھتے تھے خدا تعالیٰ کے قرب اور خدا تعالیٰ کی محبت کو دیکھتے تھے ، آپ یہ چاہتے تھے کہ خدا کا قرب بڑھے، خدا کی محبت بڑھے، سچائی پھیلے، اخلاق اور اعمال میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں جو انسانوں کو سرزمین بنا لیتے ہیں، ان کا اخلاق کی پاک تبدیلیوں سے کوئی علاقہ نہیں رہتا علاقے سے واسطہ تو ہوتا ہے اور خوبیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس یہ ایک بہت ہی احتیاط کا مضمون ہے جس کا تبلیغی منصوبے سے گہراتعلق ہے۔اگر آپ نے اس کو صحیح نہیں سمجھا اور تعداد بڑھانے کی خاطر آپ نے تبلیغیں کیں تو آپ کی تبلیغ بھی بے برکت ہو جائے گی اور خطرہ ہے کہ جماعت کا رخ بدل جائے اور اس میں مولویانہ رنگ پیدا ہونا شروع ہو جائیں۔اس وقت جماعت کا سب سے بڑا مسئلہ مولویوں کا یہی ٹیڑھا رجحان ہے یا پادریوں کا یہ ٹیڑھار جحان ہے یا پنڈتوں کا یہ ٹیڑھار جان ہے انہوں نے خدا کی مخلوق کو اپنی سرزمین بنا رکھا ہے اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ زمین کم نہ ہو جائے اور خدا کی سرزمین کم ہوتی ہے تو بداخلاقی کی وجہ سے کم ہو رہی ہوتی ہے۔پس جس زمین کے وہ مالک ہیں اُس کے اخلاق کی ان کو کوئی پرواہ نہیں۔وہ جتنے مرضی گرتے چلے جائیں خواہ انسان سے حیوان اور حیوان سے بدترین حیوان بن جائیں ، نہ ملاں کو فکر ہے نہ پنڈت کو فکر ہے، نہ پادری کو فکر ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میرے پیرو کا راتنے ہی رہیں یا بڑھ جائیں۔اب پاکستان میں دیکھ لیجئے کیا ہورہا ہے۔کثرت کے ساتھ مولوی بظاہر اسلامی جہاد میں مصروف ہیں ،ایک