خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 188
خطبات طاہر جلدا 188 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء ہماری طرف آجاؤ۔یہ تبلیغ کا طریق اختیار کرنا گمراہی ہے اس کا قرآن کریم کے بیان کردہ طریق سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں جو ایمان لے آتے ہیں ان کی تالیف کا مضمون الگ ہے اور ان کی تالیف کا مضمون قرآن کریم میں کھلا کھلا بیان ہوا ہے۔پس تبلیغ کرتے وقت جب آپ تبشیر سے کام لیں گے تو یا درکھیں کہ یہ تبشیر خدا کے حوالے سے ہونی چاہئے اور گزشتہ زمانوں کی قوتوں کی تاریخ کے حوالے سے ہونی چاہئے نہ کہ اپنی طرف سے ایسے وعدے کئے جائیں کہ جن کے نتیجہ میں ان میں حرص و ہوا بیدار ہو اور دنیا کی لالچ کے نتیجہ میں وہ دین کو قبول کرنے والے ہوں۔پس تبلیغی منصوبے میں بہت ہی بار یک باتیں پیش نظر رکھنی پڑتی ہیں۔احتیاطیں پیش نظر رکھنی پڑتی ہیں لیکن سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ اگر آپ تقویٰ پر قائم رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کا تبلیغی منصوبہ غلط نہیں ہوسکتا۔تقویٰ ایک عظیم مضمون ہے جو زندگی کے ہر دائرے پر حاوی ہے اور اس کے نتیجہ میں آپ کے منصوبے کی اس وقت بھی اصلاح ہو رہی ہوتی ہے جب آپ بنا رہے ہوتے ہیں اور اس وقت بھی اصلاح ہو رہی ہوتی ہے۔جب اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور تقویٰ آپ کو صاف صاف روشنی دیتا ہے۔ابتداء کی روشنی نہیں ہے نہ یہ انتہا کی روشنی ہے یہ ایسی روشنی ہے جو ساتھ ساتھ چلتی ہے جیسے اندھیرے میں کوئی روشن ٹارچ لے کر سفر کر رہا ہو۔پس تقویٰ کو پیش نظر رکھ کر اگر آپ تبلیغی منصوبہ بنائیں گے تو آپ کے اندر بہت ہی حیرت انگیز نفسیاتی تبدیلیاں پیدا ہوں گی سب سے پہلے آپ اپنی نیت کو پرکھیں گے کہ آپ کیوں تبلیغ کر رہے ہیں۔کیا محض اللہ ہے یا تعداد بڑھانے کے لئے ہے یا اپنے نفس کے دکھاوے کے لئے ہے۔کئی قسم کی نیتیں نیکیوں میں داخل ہو جایا کرتی ہیں اور ان کو گندا کر دیتی ہیں۔پس تقویٰ کے ساتھ پہلے نیتوں کو کھنگالنا اور ان کو صاف کرنا بے انتہا ضروری ہے ورنہ اگر آپ تعداد بڑھانے کے لئے تبلیغ کریں گے تو یہ ایک قسم Territorial Movement بن جائے گی یعنی جس طرح دنیا کے بادشاہ تلوار کے ذریعے علاقے فتح کرتے ہیں اس طرح نظریات کے حامل لوگ نظریات کے ذریعہ انسانوں کے ملک اپنے لئے بناتے ہیں اور انسان کو سر زمین کے طور پر دیکھتے اور ویسا ہی اس سے سلوک کرتے ہیں اور انسان کو سرزمین کے طور پر شمار کرنا تقویٰ کے بالکل منافی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی کی نشاندہی کرتا ہے اسی وجہ سے دنیا میں اکثر تباہیاں پیدا ہوئی ہیں۔انبیاء کے رستے میں