خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 178
خطبات طاہر جلدا 178 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء مسلمان بنانے کا تخمینہ ہے یہ فرضی طور پر ایک غبارے کی طرح پھول جاتا ہے بعض دوست دعا کے مضمون اور منصوبے کے مضمون میں فرق نہیں کر سکتے انہوں نے یہ سن رکھا ہے اور بجا سن رکھا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جب خدا سے مانگو تو کھلا مانگا کر تھوڑا نہ مانگا کرو آگے اس کی مرضی ہے کہ وہ دے نہ دے یہ دعا کا مضمون ہے۔منصوبے کا مضمون نہیں ہے۔جس قادر مطلق سے بے انتہا مانگنے کی ہدایت ہے وہی قادر مطلق جب خود مسلمانوں کے لئے منصوبہ بناتا ہے تو دنیاوی حسابات کو حقیقی اسباب کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بناتا ہے حالانکہ وہ چاہے تو لا متناہی منصوبہ بنا سکتا ہے چنانچہ دیکھیں کہ حضرت محمد مصطفی میلہ کو خدا تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی کہ تمہارے لئے ابتدائی منصوبہ یہ ہے کہ تم ایک ہو گے تو دو پر غالب آؤ گے اگر ایک سچا مومن ہوا تو وہ دو پر غالب آئے گالیکن بعد ازاں اس منصوبے میں تدریجی ترقی ہوگی بالآخر میں تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ایک مومن دس پر غالب آئے گا لیکن الفاظ یہ نہیں تھے کہ ایک مومن دس پر غالب آئے گا۔بلکہ پہلے یہ تھا ایک دو کی بجائے سو دو سو پر غالب آئے گا اور پھر بعد میں جو دس کا مضمون ہے وہ بھی ایک سے شروع نہیں ہوتا بلکہ فرمایا کہ بہیں دوسو پر غالب آئیں گے۔اس میں بڑی گہری حکمت ہے اللہ چاہے تو ہر مومن کو دو پر بھی غالب کر سکتا ہے اور چاہے تو ہر مومن کو دس پر بھی غالب کر سکتا ہے لیکن بعض باتوں کا تعداد سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔Large Numbers ایک سائنس ایجاد ہو چکی ہے جس کا مطلب یہ کہ ضروری نہیں کہ ایک شخص ایک جماعت کا حصہ ہو اور اس جماعت کے ہر شخص کو برابر استعداد حاصل ہومگر ایک کمز و شخص ایک جماعت کا حصہ ہوسکتا ہے جبکہ جماعت کی مجموعی طاقت اس ایک کمزور شخص کی طاقت کو جمع کرنے سے زیادہ بنتی ہے۔مثلاً ایک کمزور شخص ہے جسے دوسرے ساتھی سے نصف طاقت حاصل ہے اب اگر اسے ایک بڑی جماعت میں شامل کر لیا جائے تو ممکن ہے کہ اس کی طاقت مجموعہ کے ساتھ مل کر دگنی ہو جائے۔پس ایسی گفتگو انفرادی طور پر نہیں کی جاتی بلکہ جماعتی طور پر کی جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم نے جب یہ وعدہ فرمایا کہ ایک دو پر غالب آئے گا اور ایک دس پر غالب آئے گا تو اس کو جماعتی اندازے کے مطابق پیش فرمایا ہے انفرادی اندازے کے طور پر پیش نہیں فرمایا۔تو دیکھیں اللہ تعالیٰ جو قادر مطلق ہے اس نے کتنی گہری حکمت کے ساتھ منصوبہ بنایا ہے اور کتنا واقعاتی منصوبہ بنایا ہے۔کوئی فرضی بات